خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 148

1941 ء 149 خطبات محمود پس اس کا یہ لکھنا تو غلط تھا لیکن کل ایک انگریز مدبر کے الفاظ پڑھ کر مجھے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اس نے کیا ہی لطیف طور پر اس بات کی تردید کی ہے۔ انگریزوں کے جو وزیر بحری ہیں ان کی ایک تقریر حال ہی میں چھپی ہے۔ اس تقریر کے الفاظ پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ مصریوں اور پیغامیوں کے رڈ کے لئے ہی کہے گئے ہیں۔ ان کا نام مسٹر الیگزنڈر ہے وہ کہتے ہیں جون، جولائی میں (یعنی جب حکومت برطانیہ نے حکومت فرانس کو تار دیا تھا کہ دونوں ملکوں کی حکومت ایک کر دی جائے اور فرانس کا برطانیہ سے الحاق ہو جانا چاہئے) ہر وہ شخص جو جنگی فنون سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہم پھر امن میں آ جائیں گے اس نے تو یہ لکھا تھا کہ “ہمارے بادشاہ کی کامیابی یقینی ہے مگر مسٹر الیگزنڈر انگلستان کے وزیر بحری کہتے ہیں کہ کوئی جاہل ہی یہ سمجھ سکتا تھا کہ ہم جیت جائیں گے۔ ورنہ ہماری حالت ایسی خراب تھی کہ کوئی عالم اور جنگی فنون سے واقفیت رکھنے والا انسان ایسی بات نہیں کہہ سکتا تھا۔ گویا اس نے مصری پارٹی کے اس شخص کے اعتراض کا جواب دے دیا کہ جاہل بے شک کہتا ہو کہ انگریز شکست نہیں کھا سکتے مگر کوئی عالم ایسا خیال نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ہر وہ شخص جسے جنگی فنون سے ذرا بھی مَس ہے، جانتا تھا کہ ہماری حالت کتنی خطرناک ہے۔ پس جاہل تو یہ امید رکھ سکتا تھا مگر جنگی فنون سے واقف ایسی امید نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں مگر اب حالت بہت بدل چکی ہے اور ہم پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہیں۔ یہ بات میں نے صرف ضمناً بیان کی ہے در حقیقت میں اس بات کا ذکر کر رہا تھا کہ اب حالات پھر خطرناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے موجودہ جنگ کے متعلق اپنی بعض خوابیں بیان کی تھیں۔ ان کے علاوہ بعض اور خواہیں بھی ہیں جو مندر ہیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ منذر رویا پوری ہو چکی ہیں یا ابھی ان کا کوئی حصہ پورا ہونا باقی ہے۔ اور پھر بعض دفعہ دوری طور پر