خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 149

1941 150 خطبات محمود خواہیں ظہور میں آتی رہتی ہیں۔ایک دفعہ کسی رنگ میں پوری ہوتی ہیں اور دوسری دفعہ کسی رنگ میں۔پس میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ تمام خواہیں پوری ہو چکی ہیں یا ابھی بعض خواہیں جو اپنے اندر انذاری پہلو رکھتی ہیں پوری نہیں ہوئیں۔بہر حال اب چونکہ جنگ کے بھڑکنے کے ایام پھر قریب آ رہے ہیں ہماری جماعت کو دعاؤں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اگلے چار مہینے جنگ کے لحاظ سے نہایت خطرناک ہیں۔اپریل مئی جون جولائی اگست بلکہ اگر ستمبر بھی شامل کر لو تو چار ماہ بجائے چھ ماہ نہایت خطرناک ہیں۔ان میں پھر رستوں کی آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔پھر حملوں کے لئے سہولتیں میسر آ جائیں گی پھر جرمن آبدوز کشتیاں زیادہ شدت سے انگریزی انگریزی جہازوں پر حملے کر سکیں گی اور پھر انگریزوں کو خوراک پہنچنے کے رستے دشمن بند کر سکے گا۔اسی طرح جرمن ہوائی جہاز زیادہ آسانی سے انگلستان پر حملہ کر سکتے ہیں۔اس کی فوجیں سرعت سے حرکت میں آسکتی اور وہ مشرق کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے اور انگلستان کی طرف بھی۔غرض وہ ہر قسم کے حالات پھر جمع ہونے والے ہیں جو دنیا کا امن برباد کرنے کے لئے نہایت خطرناک ہیں۔یہ سال اگر خیریت سے گزر گیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ 1942ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حالات زیادہ بہتر ہو جائیں گے۔وہ لوگ جنہوں نے میرے خطبات سنے ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ 1938ء میں میں نے ایک خطبہ 2 پڑھا تھا جس میں میں نے بتایا تھا کہ 1942ء یا 1944ء خطروں کا آخری سال معلوم ہوتا ہے۔اس کے بعد حالات میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔اسی طرح 1927ء کی مجلس شوریٰ میں میں نے بیان کیا تھا:۔“ آج سے دس سال کے اندر اندر ہندوستان میں اس بات کا فیصلہ ہو جانے والا ہے کہ کونسی قوم زندہ رہے اور کس کا نام و نشان مٹ جائے۔حالات اس سرعت اور تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں کہ جو قوم یہ سمجھے کہ آج سے بیس پچیس سال بعد کام کرنے کے لئے تیار ہو گی وہ زندہ نہیں رہ سکے گی اور جو قوم یہ خیال رکھتی ہے