خطبات محمود (جلد 22) — Page 147
1941 148 خطبات محمود۔مغلوب کر لیا۔9 مئی کو اس نے حملہ کیا تھا اور تین ہفتہ کے اندر اندر مئی کے آخر تک یہ تمام طاقتیں بالکل مضمحل ہو چکی تھیں اور جون میں تو فیصلہ ہی ہو گیا تھا۔اس وقت بظاہر یہ نظر نہیں آتا تھا کہ انگریز کوئی مقابلہ کر سکیں گے گویا وہی حالت جو رویا میں مجھے دکھائی گئی تھی کہ انگلستان سخت خطرہ میں گھر جائے گا رونما ہو گئی۔مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے بتایا گیا تھا کہ چھ ماہ کے بعد یہ حالات بدل جائیں گے۔جب میں نے یہ خواب اپنے خطبہ میں بیان کی تو اس وقت پیغامی لوگ جن کو ہمارے خلاف ہمیشہ کسی نہ کسی مشغلہ کی ضرورت ہوتی ہے اُن کے ایک ایجنٹ نے جو مصری صاحب کے ساتھیوں میں سے تھا میری دعاؤں کی قبولیت کے خلاف ایک ٹریکٹ شائع کیا اور اُس میں لکھا کہ “ اس وقت خلیفہ صاحب حکومت کے مصائب میں اور اضافہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں اور انہیں الٹا اپنے سامنے جھکانا چاہتے ہیں اور ان کی کامیابی کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں حالا نکہ ہمارے بادشاہ کی کامیابی یقینی ہے۔" یہ بات یوں تو غلط تھی کیونکہ اُس وقت ہر شخص اندر سے گھبرا رہا تھا اور اس علاقہ کے سیکھ کیا اور ہندو کیا اور مسلمان کیا سب یہ خیال کرتے تھے کہ انگریزوں کی حکومت اب چند روزہ ہے۔بلکہ سکھوں نے تو ہتھیار بھی جمع کرنے شروع کر دیئے تھے اس خیال سے کہ جب انگریزوں کی طاقت کمزور ہو جائے گی ہم ملک پر قبضہ کر لیں گے۔چنانچہ لاہور میں بعض دوست کارتوس لینے کے لئے وو گئے تو انہوں نے بتایا کہ سارے لاہور میں سے جہاں لاکھوں کا اسلحہ ہوا کرتا میں روپے کے کارتوس بھی نہ مل سکے۔وہ تمام دکانوں پر پھرے مگر کسی کے پاس کارتوسوں کا ایک ڈبہ نکلا اور کسی کے پاس دو حالانکہ وہاں اسلحہ کی دس بارہ دکانیں ہیں اور بڑی بڑی دکانیں ہیں۔تو یہ بات غلط ہے کہ انگریزوں کے متعلق اس وقت کسی کو یہ خیال نہیں تھا کہ یہ ہار جائیں گے۔اس وقت عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ انگریز جرمنی کا زیادہ دیر تک مقابلہ نہیں کر سکتے۔