خطبات محمود (جلد 22) — Page 140
1941 ء 141 خطبات محمود موسیٰ بن غسان سوار فوج کے جرنیل تھے انہوں نے کہا کہ صلح کی بات فضول ہے۔ عیسائیوں کو بتا دو کہ مسلمان تلوار اور خنجر اور گھوڑے پر چڑھ کر لڑنے کے لئے ہی پیدا ہوا ہے۔ اگر مسیحی بادشاہ ہمارے ہتھیاروں کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ آکر ہم سے جبراً چھین لے لیکن اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے ہتھیار اسے بہت مہنگے پڑیں گے۔ میرا تو یہ حال ہے کہ غرناطہ کی فصیل کے نیچے کی قبر مجھے غرناطہ کے پر تکلف مکانوں کی رہائش سے زیادہ عزیز ہے۔ جس میں مجھے کفار کی اطاعت میں رہنا پڑے۔ لوگوں پر ان کی باتوں کا اثر ہوا اور جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا اور باہر نکل کر حملے شروع کئے مگر کجا ایک شہر اور کجا سارا ملک۔ مسلمان کثرت سے شہید ہونے لگے اور محاصرہ لمبا ہو گیا یہاں تک کہ سردی کا موسم آگیا او رخوراک کا ذخیرہ ختم ہونے لگا آخر ابو القاسم گورنر غرناطہ نے رپورٹ کی کہ ذخائر خوراک ختم ہونے کو ہیں اور لوگوں میں گھبراہٹ پیدا ہو رہی ہے لیکن موسیٰ نے پھر صلح کی مخالفت کی اور باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی رائے دی اور پھر باہر نکل کر مقابلہ شروع ہوا لیکن پیدل سپاہ کو شکست ہوئی اور لشکر اسلام پھر قلعہ میں محصور ہو گیا۔ پھر صلح کی کانفرنس ہوئی۔ پھر موسیٰ نے مخالفت کی اور کہا کہ ہر مرد کو ہتھیار دو کہ وہ نکل کر مقابلہ کرے اور میں تو غرناطہ کی حفاظت میں لڑ کر مر جانا پسند کروں گا مگر مغلوب ہونے کو ہرگز برداشت نہ کروں گا لیکن اس دفعہ ان کی بات کا اثر نہ ہوا اور ابو القاسم وزیر کو صلح کی شرطیں طے کرنے کو بھجوایا گیا اور وہ یہ شرائط طے کر کے آئے کہ ستر دن لڑائی بند رہے گی۔ اس اثناء میں اگر مسلمانوں کو افریقہ سے مدد پہنچ گئی تو وہ لڑائی جاری کر دیں گے ورنہ ہماری ماتحتی میں رہیں گے۔ ان کی مساجد کا احترام کیا جائے گا، اسلامی مدارس جاری رکھے جائیں گے، کسی عیسائی یا یہودی کو ان پر حاکم نہیں مقرر کیا جائے گا۔ وزیر جب یہ شرائط معلوم کر کے واپس آیا تو سب نے ان کو پسند کیا مگر ہزار سال کی حکومت کے بعد اس طرح حکومت کھونے کے خیال سے کئی عمائد رو پڑے۔