خطبات محمود (جلد 22) — Page 139
خطبات محمود 140 * 1941 جو ہیں ان میں قرطبی فقہی مسائل کے لحاظ سے اور بحر محیط نحوی لحاظ سے بہترین تفسیریں سمجھی جاتی ہیں۔اس میں رطب و یابس اور لغو باتیں نہیں بلکہ قرآن کریم پر قرآن کریم سے بحث کی گئی ہے اور یہ دونوں مفسر یورپ کے رہنے والے تھے۔ابن حجر کا نام ایسا ہے جسے عام طور پر مسلمان جانتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول تو گویا ان کے عاشق تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ابن حجر اسلام کے لئے ننگی تلوار تھے یہ بھی سپین کے رہنے والے تھے۔تو سپین ایک زمانہ میں اسلام کا مرکز تھا کیا بلحاظ فقہی مسائل کی تحقیق و تدقیق کے اور کیا بلحاظ فقہ، علم کلام، تفسیر قرآن اور احادیث پر عبور کے۔پھر دنیوی علوم میں سے طب، فلسفہ اور علم ادب کے لحاظ سے بھی وہاں چوٹی کے علماء گزرے ہیں لیکن عام لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ یہ سب بڑے بڑے علماء و فقہاء F عرب اور بغداد وغیرہ کے رہنے والے تھے۔سپین میں مسلمانوں کی حکومت آٹھ سو سال تک قائم رہی اور بڑی شان سے رہی۔فرانس کے بعض علاقے بھی مسلمانوں نے فتح کئے۔یورپ کے بہت سے جزائر بھی ان کے قبضہ میں تھے، جنوبی اٹلی کے بعض حصوں پر بھی ان کی حکومت تھی۔مگر یہ ساری حکومت آہستہ آہستہ باہمی مخالفتوں اور عداوتوں کی وجہ سے کمزور ہوتی گئی حتی کہ صرف دار السلطنت غرناطہ اور ارد گرد کے بعض دیہات تک ہی اسلامی حکومت محدود رہ گئی۔اس وقت سپین کے ایک حصہ کا بادشاہ فرڈیننڈ خامس اور ایک کی ایک عورت از بیلا تھی۔دونوں نے باہم شادی کر لی اور ساری طاقت اکٹھی کر کے غرناطہ پر حملہ کر دیا۔مسلمان بہت تھوڑے تھے مگر پھر بھی ہمت والے تھے اور اسلامی اثر ان پر تھا۔مقابلہ بڑا سخت کیا مگر آخر محاصرہ کی حالت ہو گئی سات ماہ تک محاصرہ جاری رہا اور پھر خوراک میں بھی کمی ہونے لگی اس وقت وہاں کے بادشاہ ابو عبد اللہ محمد بن سلطان ابو الحسن ناصری تھے انہوں نے مجلس مشاورت منعقد کی کہ یا کیا جائے۔اکثر لوگوں کا مشورہ یہی تھا کہ صلح کر لی جائے مقابلہ فضول ہے کیونکہ ہم مقابلہ کر نہیں سکتے۔www