خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 141

1941 خطبات محمود کھلا 142 موسیٰ کھڑے ہوئے اور کہا کہ اے سردارانِ قوم اس رونے کے کام کو عورتوں اور بچوں کے لئے رہنے دو ہم مرد ہیں ہمارا کام مرد ہیں ہمارا کام آنسو بہانا نہیں خون بہانا ہے۔بے شک لوگوں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے مگر ابھی ایک راستہ شرفاء کے لئے ہے اور وہ یہ کہ لڑ کر مر جائیں۔زمین ہماری لاشوں کو سنبھالنے کے لئے موجود ہے اور اگر وہ بھی نہ ملے تو آسمان ہماری قبر بننے کے لئے کافی ہے۔خدا تعالیٰ ہم کو اس طعنے سے بچائے کہ یہ لوگ اسلامی حکومت کے بچانے سے موت کے ڈر کی وجہ سے رک گئے۔ان کی یہ تقریر سن کر بادشاہ نے کہا کہ یہ میری بد قسمتی ہے کہ اس ملک میں اسلام کی تباہی میرے ہی زمانہ میں مقدر تھی مگر امراء پر اس پر حسرت کلام کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور وہ صلح نامہ پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہو گئے تب موسیٰ پھر جوش سے کھڑے ہوئے اور کہا کہ اپنے آپ کو دھوکا نہ دو اور یہ خیال نہ کرو کہ عیسائی صلح کے شرائط کی پابندی کریں گے۔موت تو سب سے کم خطرہ والی ہے۔صلح کے بعد ہمارے شہروں کا تباہ کیا جانا، مسجدوں کی بے حرمتی، گھروں کی تباہی، ہماری بیویوں اور لڑکیوں کی عصمت دری، ظلم اور بے انصافی، زنجیریں اور کوڑے اور قید خانے، دہکتی ہوئی آگ میں جلایا جانا مجھے نظر آ رہا ہے۔اور وہ لوگ جو زندہ رہیں گے ان امور کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔باقی رہا میں سو خدا کی قسم ہرگز اس دن کو نہیں دیکھوں گا۔یہ کہہ کر موسیٰ بن عسان اٹھے اور بغیر کسی مخاطب ہوئے اپنے گھر گئے اور ہتھیار لگا کے گھوڑے پر سوار ہوئے اور شہر باہر نکل گئے۔اسلامی تاریخ کہتی ہے کہ اس کے بعد پھر کسی نے ان کو نہ دیکھا مگر مسیحی مورخ فرے انٹونیو گائیڈا لکھتا ہے کہ اسی دن ایک دستہ پندرہ سواروں کا دریا کے کنارے چکر لگا رہا تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان ہتھیار لگا کے ان کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے انہوں نے اسے کھڑا ہونے اور اپنے آپ کو ان کے الے کرنے کے لئے کہا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا او ربڑھ کر ایک سوار کو مار گرایا اس پر لڑائی شروع ہو گئی اور یہ سوار زخموں اور چوٹوں سے بالکل بے پرواہ تھا