خطبات محمود (جلد 22) — Page 128
1941 ء 129 9 خطبات محمود نیک وہی ہیں جو عُسر اور ٹیسر دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کریں ) فرمودہ 14 مارچ 1941ء ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ “ اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم سے دو نام معلوم ہوتے ہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ اس کے دو ہی نام ہیں بلکہ یہ ہے کہ جس مضمون کے متعلق میں اس وقت و بیان کرنا چاہتا ہوں اس کے متعلق دو نام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ وَ الله يَقْبِضُ وَ يَبْضُطُ 1 ہے۔ یعنی وہ قبض کرتا ہے اور پھر بسط بھی کرتا ہے۔ یعنی کبھی تو قسم کا ہوتا ان کے ساتھ کا ہوتا ہے کہ وہ ان تو اپنے بندوں سے اس کا معاملہ اس مہربانی، شفقت اور رحم سے پیش آتا ہے، ان کو ترقیات بخشتا ہے، ان کے کاموں میں برکت دیتا ہے اور ان کی کوششوں کے اعلیٰ درجہ کے نتائج پیدا کرتا ہے اور کبھی اس کے قابض ہونے کی صفت ظہور میں آتی ہے اور وہ اپنے بندے پر تکالیف، ابتلاء اور مصائب نازل کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان ابتلاؤں اور تکالیف کے زمانہ میں اس کے بندے کا معاملہ کیسا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ افراد اور اقوام دونوں کے متعلق ہوتا ہے مومنوں کے ساتھ یا مومن جماعتوں کے ساتھ۔ اس کا معاملہ کبھی تو قبض کا اور کبھی بسط کا ہوتا ہے۔ یا تو وہ قبض کے بعد بسط کا سلوک