خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 110

1941ء 110 خطبات محمود ایم۔اے ہوتا ہے، مولوی فاضل ہوتا ہے اور وہ سب دنیا کے علوم کو کھنگال ڈالتا ہے کہ رسول کریم صلی السیم مگر قوت عملیہ اس میں بالکل مفقود ہوتی ہے۔ اس کی وجہ کی وجہ یہی ہے کہ صد کے عمل کی نقل اور اس کی اتباع کا پورا خیال دل میں نہیں ہوتا۔ مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے صحابہ میں یہ اہتمام انتہا درجہ کا پایا جاتا تھا۔ ایک دفعہ لوگ ایک جنازہ لئے جا رہے تھے کہ ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے کہا میں نے رسول کریم صلی اللی یم سے سنا ہوا ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے جنازہ میں شامل ہو تو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور ایک قیراط ثواب احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ لیکن اگر جنازہ پڑھنے کے بعد اسے دفن کرنے کے لئے قبر تک جائے تو اسے دو قیراط ثواب حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے صحابی یہ بات سن کر اس صحابی پر ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ تم نے یہ بات ہمیں پہلے کیوں نہ بتائی۔نہ معلوم ہم اب تک ثواب کے س کتنے قیراط ضائع کر چکے ہیں 2 تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی وہ لوگ رسول کریم صلی الایم کے بتائے ہوئے طریق کی نقل کرتے۔ آپ کے احکام کی اتباع کرتے اور سمجھتے کہ اسی میں ان کی ترقی اور اسی میں ان کی عزت ہے۔ اور در حقیقت یہ ہے بھی صحیح۔ آخر کونسی بات ہے جو رسول کریم صلی الیم نے ہمیں بتائی ہو اور اس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔ ایک بات بھی کوئی شخص ایسی بتا نہیں سکتا۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب کی سو میں سے نوے باتیں ایسی ہوں گی جن کی حکمت یا تو ان کے مذاہب نے بتائی ہی نہیں یا اس کے اندر کوئی حکمت ہے ہی نہیں۔ مگر رسول کریم صلی الم نے ہمیں جو احکام دیئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ سو میں سے سو کی حکمتیں ہی ہی بیان کی جا سکتی ہیں، سو میں سے سو کی ہی سو کی ہی غرض و غایت بیان کی جاسکتی ہے اور سو میں سو کے ہی فوائد بیان کئے جا سکتے ہیں۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ جوش پیدا نہ ہو کہ ہم رسول کریم صلی الم کے احکام کی اتباع کریں اور ایک ایک بات جو ہمیں نظر آئے خواہ وہ بظاہر چھوٹی سے چھوٹی ہو اس کو بھی نہ چھوڑیں لیکن افسوس کہ مسلمانوں میں