خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 109

* 1941 109 خطبات محمود پڑھایا کرتے تھے مگر حضرت عثمان نے چار رکعتیں پڑھائیں۔انہوں نے کہا دیکھو ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم فتنہ اٹھائیں کیونکہ خلیفہ وقت نے کسی حکمت کے ماتحت ہی ایسا کام کیا ہو گا۔پس تم فتنہ نہ اٹھاؤ۔میں نے بھی ان کی اقتداء میں چار رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔مگر نماز کے بعد میں نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ لی تھی کہ خدایا تو ان چار رکعتوں میں سے میری وہی دو رکے رکعتیں قبول فرمانا جو رسول کریم ہے۔کے ساتھ ہم پڑھا کرتے تھے اور باقی دو رکعتوں کو میری نماز نہ سمجھنا۔یہ کیسا عشق کا رنگ ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود میں پایا جاتا تھا کہ انہوں نے چار رکعتیں پڑھ تو لیں مگر انہیں وہ ثواب بھی پسند نہ آیا جو محمد صلی الی کم کی پڑھی ہوئی دو رکعتوں سے زیادہ تھا اور دعا مانگی کہ الہی دو رکعتیں ہی قبول فرمانا چار قبول کرنا۔اور پھر خلافت کی اطاعت کا بھی اس میں کیسا عمدہ نمونہ پایا جاتا ان کو معلوم نہ تھا کہ حضرت عثمان نے کس وجہ سے دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھائی ہیں۔حالانکہ یہ وجہ ایسی ہے جسے بہت سے لوگ صحیح قرار دیتے ہیں۔وہ بیوی کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے، بیٹے کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے ماں باپ کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے۔پس یہ مسئلہ ٹھیک تھا اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ احتیاط کہ باہر کے لوگوں کو دھوکا نہ لگے اور اسلام میں کوئی رخنہ نہ پڑ جائے ان کے اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا ثبوت ہے۔مگر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو اس وقت تک اس حکمت کا علم نہیں تھا لیکن انہوں نے یہ نہیں کیا کہ نماز چھوڑ دی ہو بلکہ انہوں نے نماز بھی پڑھ لی اور خلافت کی اطاعت بھی کر لی اور بعد میں خدا تعالیٰ کے حضور عرض کر دیا کہ یا اللہ میری دو رکعتیں ہی قبول ہوں چار نہ ہوں۔یہ کیسی فرمانبرداری اور رسول کریم صلی الم کے قدم بقدم چلنے کی روح تھی جو اُن میں پائی جاتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ باوجود اس بات کے کہ صحابہ بالکل ان پڑھ تھے (سارے مکہ میں کل سات آدمی پڑھے لکھے تھے) ساری دنیا پر چھا گئے۔لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص بی۔اے ہوتا ہے،