خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 608

* 1941 608 خطبات محمود سمجھتے رہیں گے کہ اگر مرابطہ کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے تو یا تو وہ شیطان کی آواز ہے یا ہمارے کسی ایسے بھائی کی ہے جس پر شیطان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔یعنی یا تو ایسی شکایت کرنے والا منافق ہے اور جھوٹے طور پر احمدی بنا ہوا ہے یا ہے تو سچا احمدی مگر بے وقوف ہے اور جب تک ہماری جماعت اس قسم کے اعتراضات کے باوجود دلیر اور نڈر ہو کر مرابطہ کا کام جاری رکھے گی اس وقت تک ہماری جماعت کو برابر فتوحات حاصل ہوتی رہیں گی۔مگر جس دن ہماری جماعت کے دوستوں میں کمزوری پیدا ہو گئی کہ لوگوں کے اعتراضات سے ڈر کر انہوں نے مرابطہ کا کام کرنا ترک کر دیا تو یہ ان کے اس بات پر دستخط ہوں گے کہ ہم اب دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کے قابل نہیں رہے۔ہمارا تختہ الٹ دیا جائے اور کسی اور قوم کو ہماری جگہ لایا جائے لیکن اگر تم تا بطوا پر عمل کرتے رہو گے تو یقینا تم ہمیشہ کامیاب رہو گے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ تم اس پر عمل کر سکو گے یا نہیں کیونکہ آج تک دنیا کی کسی قوم نے اس پر ہمیشہ کے لئے عمل نہیں کیا۔ایک لمبے عرصہ کے بعد تمام قومیں ست ہو جاتی رہی ہیں مگر ہم تو ابھی ابھر رہے ہیں ہمارے لئے ست ہونے کا ابھی کونسا وقت ہے اگر تمام دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے سینکڑوں سال بعد ہم میں سستی پیدا ہو تب بھی ہم صرف پہلی قوموں کے ساتھ مشابہہ ہوں گے۔ہاں دنیا پر کامل غلبہ کے بعد، اگر ہزاروں ہزار سال تک ہم مرابطہ کی ذمہ داری کو ادا کرتے رہیں اور دشمن کے حملوں سے ہر وقت چوکس اور ہوشیار رہیں تو پھر ہم ایسی قوم بنیں گے جس کی مثال روئے زمین نہیں مل سکے گی۔کوئی قوم تاریخ میں سے ایسی نظر نہیں آتی جس نے ہزاروں سال مرابطہ کیا ہو۔بعض جماعتیں تو ابتدائی چند سالوں میں ہی مرابطہ کے فرض کو بھول کر تباہ ہو گئیں اور بعض نے تین چار سو سال تک اس فرض کو ادا کیا اور پھر بھول گئیں۔مگر بہر حال پچھلوں کو پہلوں سے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان کے زمانہ سے زیادہ لمبے عرصہ تک اس فرض کو او رہنا چاہئے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ابھی ہمارا مرابطہ کا اصل کام کرتے پر ادا