خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 607

* 1941 607 خطبات محمود ہو اور اس کی اولاد پر حملہ کرنے کی تاک میں رہے گا اور اس بات کا انتظار کرتا رہے گا کہ کب یہ قوم غافل قوم غافل ہو اور میں اس پر حملہ کروں۔اس لئے فرمایا اس کے بعد تمہارے لئے ضروری ہے کہ ترابطؤا کے حکم کو مد نظر رکھو۔اگر تم ہمیشہ مرابطہ کرتے رہو اور ہمیشہ اپنی سرحدات کی حفاظت کرتے رہو تو دشمن کبھی تم پر حملہ آور نہیں سکتا اور تم ہمیشہ کے لئے اس کے فتنہ سے محفوظ ہو جاؤ گے۔پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے مستقل اور دائمی ترقی کا راز بتایا ہے۔مگر افسوس کہ قومیں اور حکومتیں اصبروا پر عمل کر لیتی ہیں۔وہ صابِرُوا پر عمل کر لیتی ہیں مگر ابگڑا پر عمل نہیں کرتیں۔ہوتا ہے کہ پھر روحانیت دنیا سے مٹ جاتی ہے پھر کفر کا غلبہ ہو جاتا ہے۔پھر گناہ دنیا میں پھیل جاتا ہے۔پھر صداقت نا پید ہو جاتی ہے اور پھر خدا دنیا کی اصلاح کے لئے ایک نیا نبی مبعوث کرتا ہے۔اس پر پھر اضبوڈا کی جنگ لڑی جاتی ہے پھر صَابِرُوا کی جنگ لڑی جاتی ہے پھر تا بطوا کی جنگ لڑی جاتی ہے۔مگر پھر کچھ عرصہ کے بعد لوگ یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اب تو دشمن مر گیا۔آؤ ہم اپنی سرحد کے سپاہیوں کو واپس بلا لیں۔وہ ان سپاہیوں کو واپس بلاتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی چوروں کی طرح دشمن فاتح قوم کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجہ میں پھر اس قوم کا تختہ الٹ جاتا ہے پھر اس کی ترقی مٹ جاتی ہے پھر اس کی عزت ذلت سے اور اس کی نیک شہرت بدنامی سے بدل جاتی ہے۔پس رابطوا کا معاملہ سخت نازک ہوتا ہے اور قومیں اس حکم پر عمل کرنے میں سب سے زیادہ کمزوری دکھایا کرتی ہیں۔بیسیوں احمدی اس وقت قادیان میں ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ نظام کی طرف سے فلاں سختی کی جاتی ہے۔نظام کی طرف سے فلاں سختی کی جاتی ہے جس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ہم تا بطوا پر عمل کرنا چھوڑ دیں اور ہمیں قادیان میں اور بعض دوسرے گاؤں میں جو روحانی غلبہ حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے۔پس شیطان ہمیشہ ایسی آوازیں نکالتا رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تابِطُوا پر عمل کرنا چھوڑ دیا جائے مگر جب تک ہماری جماعت کے لوگ مرابطہ کو قائم رکھیں گے، جب تک وہ