خطبات محمود (جلد 22) — Page 502
* 1941 502 خطبات محمود نعمتوں کا انکار کرو گے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی کہے میں مار مار کر تمہارا بھر کس نکال دوں گا تم میرے کون کون گا تم میرے کون کون سے انعام کا انکار کرو گے۔میں تمہیں قید کر دوں گا پس تم میرے کون کون سے انعام کا انکار کرو گے۔طرز بیان قرآن کریم کی شان کے خلاف ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض عذاب بھی رحمت کا موجب ہوتے ہیں۔جیسے سورۂ فاتحہ کو اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 2 سے شروع کیا مگر بعد میں ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ 3 فرمایا اور اس میں سزا بھی داخل ہے۔یعنی کلام الحمد کے ساتھ شروع کیا گیا اور سزا کو شامل کر لیا گیا ہے۔مگر اس میں رحمت کا پہلو موجود ہے۔ابتدائی عمر میں میں نے ایک دفعہ ستیارتھ پرکاش کے بعض اعتراضات کا جواب لکھنا شروع کیا تھا اور سورۂ فاتحہ پر اعتراضات کا جواب لکھا تھا۔اس زمانہ میں سوامی دیانند صاحب کے ایک بڑے مقرب دوست زندہ تھے جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں البتہ تشخیز کے پرچوں میں محفوظ ہو گا۔انہوں نے اعتراض لکھ کر بھیجا تھا کہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں تو موت اور سزا دونوں شامل ہیں۔پھر شروع میں اَلحَمدُ لِلَّهِ اور رَبِ العَلَمِينَ کہنے کا کیا مطلب ہوا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کے معنی ہیں کہ سب تعریفیں خدا کے لئے ہیں اور تب العلمین کے معنی ہیں وہ سب کی ربوبیت کرتا ہے پھر اس کے ساتھ سزا کے ذکر کے کیا معنی ہوئے۔میں نے اس کا جواب دیا تھا کہ یہاں رحمت کا پہلو موجود ہے۔ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حق مغفرت کو قائم رکھتا ہے اور جب خدا تعالیٰ کا یہ اور جب خدا تعالیٰ کا یہ حق ہے تو الْحَمد کہنے کا موقع موجود ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بیسیوں مجسٹریٹ ایسے ہوتے ہیں جو منصف اور نرم دل ہوتے ہیں اور ان کے متعلق کئی مجرم آپس میں بات چیت کرتے ہیں تو کہتے ہیں شکر ہے ہمارا مقدمہ فلاں مجسٹریٹ کے پاس ہے اور فلاں کے پاس نہیں گیا تو پھر اللہ تعالیٰ کے متعلق جو ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کہہ کر رحم کی امید دلاتا ہے۔باوجو د سزا اور موت کا ذکر ہونے کے انسان کیوں نہ الْحَمْدُ لِلَّهِ کہے۔اگر ہمارا مقدمہ کسی ایسے مجسٹریٹ کے سپرد ہو جاتا جو رحم کرنا جانتا ہی نہ ہوتا تو پھر سزا میں