خطبات محمود (جلد 22) — Page 501
* 1941 501 خطبات محمود قرآن کا خلاصہ ہیں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک ہی آیت بعض لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہو جائے اور ان کی طبیعت کی اصلاح میں محمد ہو جائے۔یہ آیات جو میں نے ابھی پڑھی ہیں سورہ رحمن کی ہیں اور شاید ان چند آیتوں میں سے ہیں جن کے متعلق قریباً سب مفسرین ایک ہی رائے رکھتے ہیں۔میں نے اس بارہ میں چند مشہور تفاسیر کو دیکھا ہے جو احادیث سے لکھی گئی ہیں جیسے ڈر منثور۔یا عقل سے لکھی گئی ہیں جیسے کشاف یا جو عقلی استدلال کے ساتھ بزرگوں کے اقوال کو بھی لیتی ہیں جیسے امام شوکانی کی تفسیر ہے۔یہ سب کی سب اس آیت کے بارہ میں متفق ہیں اور وہ اس کے معنے یہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔وہ کہیں بھی بھاگ کر جانا چاہے خدا تعالیٰ کا عذاب اسے مل جاتا ہے۔اس بچنے کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی فوجوں پر انسان غلبہ حاصل کر لے اور پھر وہ اس میں محذوف نکالتے ہیں کہ یہ غلبہ انسان کہاں حاصل کر سکتے ہیں۔پس اس کے معنے یہ ہوئے کہ خدا تعالیٰ کے عذاب سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔آج سے نہیں گزشتہ سالہا سال سے شاید 20،25 سال سے میں اس آیت کے متعلق ان مفسرین کی رائے سے اختلاف رکھتا ہوں۔اول تو میرے نزدیک یہاں عذاب کا ذکر نہیں۔بے شک بعد میں عذاب کا ذکر آتا ہے مگر اس عذاب سے بھاگنے کا جس کو بعد میں بیان کیا گیا ہے پہلے ذکر کرنا قرآن کریم کی شان کے خلاف ہے۔یہ صحیح ہے کہ تحسین کلام میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نتائج کو پہلے بیان کر دیا جاتا ہے۔مگر اس صورت میں جملہ میں جوڑ اور نسبت قائم کی جاتی ہے یہاں تو دو متفرق آیات ہیں اور ان دونوں کے بیچ میں فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ رکھا ہے۔پھر میں یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ قرآن کریم جیسی کتاب حکیم خالی عذاب کو جس کے ساتھ کوئی پہلو آرام و آسائش اور راحت کا نہ ہو بیان کرنے کے بعد فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ فرمائے جس کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنے رب کی کون کون سی لیکن