خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 433

خطبات محمود حکم مقدم ہے۔" 433 * 1941 میاں عطاء اللہ صاحب کی روایت میں اس قدر زیادہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم نے فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لکھ دو ہم نہیں آسکتے تو میں نے وہی الفاظ لکھ کر مجسٹریٹ کو بھجوا دیئے۔یہ ایک گروہ تھا جس نے ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا کہ ہماری آنکھیں اب پچھلی جماعتوں کے آگے نیچی غفلتیں نہیں ہو سکتیں۔ہماری جماعت کے دوستوں میں کتنی ہی کمزوریاں ہوں کتنی ہی ہوں لیکن اگر موسیٰ کے صحابی ہمارے سامنے اپنا نمونہ پیش کریں تو ہم ان کے سامنے اس گروہ کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔اسی طرح عیسی کے صحابی اگر قیامت کے دن اپنے اعلیٰ کارنامے پیش کریں تو ہم فخر کے ساتھ ان کے سامنے اپنے ان صحابہ کو پیش کر سکتے ہیں اور یہ جو رسول کریم صلی نیلم نے فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا میری امت اور مہدی کی امت میں کیا فرق ہے۔میری اُمت زیادہ بہتر ہے یا مہدی کی امت زیادہ بہتر 5 تو در حقیقت ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے فرمایا ہے۔یہ وہ لوگ تھے جو ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی اور دوسرے صحابہ کی طرح ہر قسم کی قربانیاں کرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کو ہی دیکھ لو۔ان کو خدا نے چونکہ خود جماعت میں ایک ممتاز مقام بخش دیا ہے اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا۔ورنہ ان کی قربانیوں کے واقعات بھی حیرت انگیز ہیں۔آپ جب قادیان میں آئے تو اس وقت بھیرہ میں پریکٹس جاری تھی۔مطب کھلا تھا اور کام بڑے وسیع پیمانہ پر جاری تھا۔مسیح موعود علیہ السلام سے جب آپ نے واپس جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا۔کیا جانا ہے، آپ اسی جگہ رہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول خود اسباب لینے کے لئے بھی نہیں گئے بلکہ کسی دوسرے آدمی کو بھیج کر بھیرہ سے اسباب منگوایا۔یہی وہ قربانیاں ہیں جو جماعتوں کو خدا تعالیٰ کے حضور ممتاز کیا کرتی ہیں اور