خطبات محمود (جلد 22) — Page 432
خطبات محمود 432 * 1941 انہوں نے اس امر کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا تو آپ نے پھر فرمایا کہ ابھی ٹھہرو۔چنانچہ انہوں نے لکھ دیا کہ میں ابھی نہیں آسکتا۔اس پر محکمہ والوں نے انہیں ڈس مس (DISMISS) کر دیا۔چار یا چھ مہینے جتنا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں رہنے کے لئے کہا تھا وہ یہاں ٹھہرے رہے۔پھر جب واپس گئے تو محکمہ نے یہ سوال اٹھا دیا کہ جس افسر نے انہیں ڈس مس کیا تھا اس افسر کا یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں ڈس مس کرتا۔چنانچہ وہ پھر اپنی جگہ پر بحال کئے گئے اور پچھلے مہینوں کی جو وہ قادیان میں گزار گئے تھے تنخواہ بھی مل گئی۔اسی طرح منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے ساتھ واقعہ پیش آیا جو کل ہی ڈلہوزی کے راستہ میں میاں عطاء اللہ صاحب وکیل سلمہ اللہ تعالیٰ نے سنایا۔یہ واقعہ الحکم 14 اپریل 1934ء میں بھی چھپ چکا ہے اس لئے منشی صاحب کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کر دیتا ہوں۔مسلیں “ میں جب سررشتہ دار ہو گیا اور پیشی میں کام کرتا تھا تو ایک دن وغیرہ بند کر کے قادیان چلا آیا۔تیسرے دن میں نے اجازت چاہی تو فرمایا ابھی ٹھہریں۔پھر عرض کرنا مناسب نہ سمجھا کہ آپ ہی فرمائیں گے۔اس پر ایک مہینہ گزر گیا۔ادھر مسلیں میرے گھر میں تھیں کام بند ہو گیا اور سخت خطوط آنے لگے مگر یہاں یہ حالت تھی کہ ان خطوط کے متعلق وہم بھی نہ آتا تھا۔حضور کی صحبت میں ایک ایسا لطف اور محویت تھی کہ نہ نوکری کے جانے کا خیال تھا اور نہ کسی باز پرسی کا اندیشہ آخر ایک نہایت ہی سخت خط وہاں سے آیا۔میں نے وہ خط حضرت کے سامنے رکھ دیا۔پڑھا اور فرمایا لکھ دو ہمارا آنا نہیں ہوتا۔میں نے وہی فقرہ لکھ اس پر ایک مہینہ اور گزر گیا۔تو ایک دن فرمایا کتنے دن ہو گئے ؟ پھر آپ ہی گننے لگے اور فرمایا اچھا آپ چلے جائیں۔میں چلا گیا اور کپور تھلہ پہنچ کر لالہ ہر چرن داس ریٹ کے مکان پر گیا تاکہ معلوم کروں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا منشی جی! آپ کو مرزا صاحب نے نہیں آنے دیا ہو گا۔میں نے کہا کہ ہاں۔تو فرمایا ان کا دیا۔