خطبات محمود (جلد 22) — Page 434
خطبات محمود 434 * 1941 یہی وہ مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر شخص کو جد و جہد کرنی چاہئے۔خالی فلسفیانه ایمان انسان کے کسی کام نہیں آسکتا۔انسان کے کام آنے والا وہی ایمان ہے جس میں عشق اور محبت کی چاشنی ہو۔فلسفی اپنی محبت کے کتنے ہی دعویٰ کرے۔ایک دلیل بازی سے زیادہ ان کی وقعت نہیں ہوتی کیونکہ اس نے صداقت کو دل کی آنکھ سے نہیں بلکہ محض عقل کی آنکھ سے دیکھا ہوتا ہے مگر وہ جو عقل کی آنکھ سے نہیں بلکہ دل کی نگاہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی صداقت اور شعائر اللہ کو پہچان لیتا ہے اسے کوئی شخص دھوکا نہیں دے سکتا۔اس لئے کہ دماغ کی طرف سے فلسفہ کا ہاتھ اٹھتا ہے اور دل کی طرف سے عشق کا ہاتھ اٹھتا ہے اور عشق کا بندھن ہی وہ چیز ہے جسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔فلسفہ سے تم صرف قیاس کرتے ہو اور کہتے ہو کہ فلاں چیز ہے مگر عشق سے تم اس چیز کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیتے ہو اور مشاہدہ اور رویت کے مقام کو حاصل کر لیتے ہو جیسے میں نے مثال بھی بتائی ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی تقریر میں احمدیت کے خلاف کئی دلائل پیش کئے مگر منشی اروڑے خان صاحب مرحوم نے ان کو ایک فقرہ میں ہی رڈ کر دیا۔انہوں نے کہا مولوی صاحب کے دلائل کا جواب تو کسی مولوی سے پوچھیں۔میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ جو چہرہ میں نے دیکھا ہے وہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔یہ دل کی آنکھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو مشاہدہ کرنے کا نتیجہ تھا اور دل کی آنکھ سے مشاہدہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے بعد فلسفیانہ دلائل انسان کو دھوکا نہیں دے سکتے۔تم سورج کو اگر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو تو پھر کوئی لاکھ دلائل دے کہ سورج اس وقت چڑھا ہوا نہیں۔تم اس کے دلائل سے متاثر نہیں ہو گے حالانکہ کئی امور ایسے ہیں جن میں انسان دوسروں کے کہنے پر دھوکا کھا جاتا اور شبہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مگر سورج دیکھنے کے بعد کوئی شخص اس کے وجود سے انکار نہیں کر سکتا۔خواہ اس کے خلاف اسے ہزاروں دلائل ہی کیوں نہ دیئے جائیں۔اسی طرح تمہیں اور باتوں میں بے شک دھوکا لگ سکتا ہے مگر کیا کوئی شخص تمہیں یہ بھی