خطبات محمود (جلد 22) — Page 253
1941 254 (16) خطبات محمود تشهد غیر مبائعین کا ایک منصوبہ فرمودہ 30 مئی 1941ء) تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔“شاید گرمی کی شدت کی وجہ سے دو چار دن سے مجھے تنفس کی خرابی کی تکلیف ہے۔رات کے وقت یہ تکلیف زیادہ ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ کئی کئی گھنٹے جاری رہتی ہے۔ابھی میں خطبہ کے لئے چل کر آیا تو میرا سانس اتنا پھول گیا تھا کہ پیٹ میں سماتا نہیں تھا۔منبر پر بیٹھنے سے کچھ آرام آیا تھا مگر کھڑے ہوتے ہی پھر وہی دورہ شروع ہو گیا ہے اس لئے میں مختصر اور آہستہ بول سکوں گا۔دوستوں نے اخبارات میں پڑھا ہو گا اپنوں نے بھی اور غیروں نے بھی کہ پیغامی لوگ قادیان میں اپنا تبلیغی مشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ایک مخلص احمدی عورت نے جس کا خاوند غیر مبائع ہے باہر کے ایک مقام سے مجھے سندھ میں بہت ہی گھبراہٹ کا خط لکھا کہ نہ معلوم اب کیا ہو جائے گا۔یہ لوگ تو ایسے ایسے بد ارادے رکھتے ہیں اور ساتھ ہی اس نے بہت سی دعائیں بھی مانگیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے شر کو دور کرے اور جماعت کی حفاظت فرمائے۔مجھے اس عورت کے اس اخلاص کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ گو یہ ایک عورت ہے جس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ ان کا مقابلہ کر سکے۔اس کا خاوند خود غیر مبائع ہے لیکن اس کے اندر ایک جوش پایا جاتا ہے اور اسی جوش کی وجہ سے وہ فکر مند ہوئی ہے۔میں یہ ذکر کر رہا تھا کہ ایک احمدی عورت نے جس کا خاوند غیر مبائع ہے