خطبات محمود (جلد 22) — Page 254
1941 255 خطبات محمود اپنے مجھے باہر سے چٹھی لکھی کہ غیر مبائعین قادیان میں اپنا مشن کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی اس نے بہت کچھ گھبراہٹ کا اظہار کیا۔میرے پاس اس سے پہلے ہی کسی احمدی دوست نے وہ ایجنڈا بھی بھجوا دیا تھا جس میں غیر مبالعین نے قادیان میں اپنا مشن کھولنے کی تحریک کا ذکر کیا ہے۔اس ایجنڈا کا مضمون یہ تھا کہ ہمارے دوست مدت سے قادیان میں تبلیغی مشن کھولنے کی خواہش رکھتے تھے اب لائل پور کے ایک خاندان کے تین نوجوانوں نے تین سو روپیہ ماہور دینے کا وعدہ کیا ہے تاکہ قادیان میں مشن قائم کیا جائے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے دوستوں کی اس خواہش کو پورا کرنے کا سامان پیدا فرما دیا ہے۔خارجی ذرائع سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ وہ مولوی صدر دین صاحب کو یہاں بھجوانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے تو ذہن میں اس تجویز کو خدائی تجویز سمجھا ہے اور انہیں خوشی ہوئی ہے کہ بعض نوجوانوں نے اس غرض کے لئے انہیں تین سو روپیہ ماہوار دینے کا وعدہ کیا ہے اور اس طرح خدا نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کا سامان پیدا فرما دیا ہے۔لیکن ہم نے بھی اس تجویز کو خدائی تجویز ہی سمجھا ہے اس لئے کہ ان کی اس تجویز کے معلوم ہونے سے پہلے ہی مجھے اللہ تعالیٰ نے رویا میں یہ دکھایا تھا کہ غیر مبائعین کا ایک مشنری قادیان میں آیا ہے۔وہ رویا میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور بعض اور دوستوں کو بھی سنا دی تھی۔پس ان کی اس تجویز سے ہمیں بھی خوشی ہوئی۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہونے لگی ہے۔انہوں نے تو سمجھا ہو گا کہ چونکہ انہیں اس غرض کے لئے تین سو روپیہ ماہوار ملنے لگا ہے اس لئے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سامان ہے حالانکہ محض روپیہ کا مل جانا اس بات کی کوئی علامت نہیں ہوتی جس کام پر اس روپیہ کو خرچ کیا جائے گا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہو گا بلکہ کسی کام کی اللہ تعالیٰ کی طرف قبل از وقت خبر مل جانا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔میں۔نہیں کہتا کہ ان کے اس مشن کے کھولنے کے معنے یہ ہیں کہ آپ