خطبات محمود (جلد 22) — Page 155
1941 156 خطبات محمود نہیں دیکھتے بلکہ کسی منافق کی زندگی پر قیاس کر کے خیال کر لیتے ہیں کہ یہی احمدیت ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ انہوں نے ہاتھی کی دم کو بھی ہاتھ نہیں لگایا، انہوں نے ہاتھی کے سونڈ کو بھی ہاتھ نہیں لگایا، انہوں نے ہاتھی کے پاؤں کو بھی ہاتھ نہیں لگایا ، انہوں نے ہاتھی کی پیٹھ کو بھی ہاتھ نہیں لگایا بلکہ انہوں نے ہائی کے گوبر کو ہاتھ لگا کر سمجھ لیا کہ انہوں نے ہاتھی دیکھ لیا۔پس تم ان لوگوں کو جانے دو۔ان کے سوا جو لوگ سچے طور پر احمدیت کو قبول کئے ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ احمدیت ایک ایسا قیمتی مال ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے اگر ہمیں اپنی جانیں بھی قربان کرنی پڑیں تو یہ ایک معمولی قربانی ہو گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ احمدیت خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اسلام اور احمدیت کی ترقی کا خدا نے وعدہ کیا ہوا ہے لیکن اگر کیا ہوا ہے لیکن اگر احمدیت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے تو اس کے دنیا میں رہ جانے سے ہمیں کیا خوشی ہو سکتی ہے۔پھر یہ بات بھی بالکل غلط ہے کہ سچائیاں ہر حالت اور ہر صورت میں ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔سچائیاں اسی وقت تک قائم رہتی ہیں جب تک ان کو قائم رکھنے کی لوگ کوشش کرتے رہتے ہیں۔آخر اسلام اپنے پہلے نزول میں کب ہمیشہ رہا؟ اور کیا رسول کریم صلی الیم کے بعد یزید جیسے لوگوں نے اسے کھیل نہیں بنا لیا اور کیا بعد میں آنے والے فقہاء اور علماء نے فقہ اور علم کے نام سے اسلام کے پرخچے نہیں اڑائے؟ یہ پہلے بھی ہوا اور اب بھی ہو سکتا ہے بلکہ اس وقت بھی ہو رہا ہے۔چنانچہ پیغامی یہی کچھ کر رہے ہیں، مصریوں نے بھی یہی کچھ کیا اور کر رہے ہیں۔چند سال ہوئے اسی ممبر پر رے ہو کر میں نے مصری صاحب کا ایک اشتہار دوستوں کو پڑھ کر سنایا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ عقائد وہی صحیح ہیں جو جماعت احمدیہ قادیان کے ہیں اور میں ان عقائد پر قائم ہوں۔میرا اختلاف صرف موجود خلیفہ سے ہے لیکن ابھی اس پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ہم بھی زندہ ہیں مصری صاحب بھی زندہ ہیں۔ان کا وہ اشتہار بھی موجود ہے مگر آج ان کی یہ حالت ہے کہ اسی سال لاہور میں پیغامیوں