خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 39

* 1940 39 خطبات محمود کے الفاظ آتے ہیں۔يَتَّقُونَ کے معنی ہیں وہ ڈرتے ہیں اور يَتَّقُونِ کے معنی ہو جائیں گے وہ مجھ سے ڈرتے ہیں۔تو زبر اور زیر کے فرق سے معنوں میں بہت سا فرق پڑ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک مرتبہ ایک پادری آیا اس نے کہا کہ عربی زبان کوئی ایسی زبان نہیں کہ جس میں خدا کا کلام نازل ہو۔یہ تو بدؤوں کی زبان ہے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں خدا تعالیٰ کا کلام بیان کرنے کی جو استعداد عربی زبان میں ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں مگر اس پادری کا دعویٰ تھا کہ انگریزی کا مقابلہ عربی زبان ہر گز نہیں کر سکتی۔آپ نے اسے کہا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو بیان کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ زبان ایسی ہو جو بڑے سے بڑا مضمون چھوٹے سے چھوٹے الفاظ میں ادا کر سکے۔اس نے کہا ہاں انگریزی میں ہی یہ خصوصیت ہے۔آپ نے فرمایا اچھا اگر “ میر اپانی ” کہنا ہو تو انگریزی میں کیا کہیں گے ؟ اس نے کہا مائی واٹر۔آپ نے فرمایا عربی میں صرف مائی کہہ دینا کافی ہو گا۔گویا انگریزی میں واٹر زائد ہے۔آپ کا یہ فرمانا بالکل خدائی تصرف کے ماتحت تھا ورنہ آپ تو انگریزی جانتے ہی نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کے منہ سے ایسا فقرہ کہلوا دیا جس سے عربی کا اختصار انگریزی کے مقابلہ میں واضح ہو گیا۔حالانکہ شاذ کے طور پر کوئی ایسا فقرہ بھی ہو سکتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ عربی سے مختصر ہو مگر آپ کے منہ سے اسی فقرہ کا نکلنا تصرف الہی کے ماتحت تھا۔پھر یہ بھی تصرف ہی کے ماتحت تھا کہ ایسا فقرہ آپ کے منہ سے نکلا کہ جس کا آدھا حصہ ہی عربی میں انگریزی کے پورے فقرے کے معنی دیتا ہے۔تو عربی زبان میں کئی خصوصیات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی نثر ترتیل کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے اور زبانوں میں یہ بات نہیں۔ان کو اگر اس رنگ میں پڑھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ منہ چڑایا جارہا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ تمام مساجد کے مؤذنوں کو درست اذان سکھائیں اور ان کو الفاظ پر بلاوجہ زور دینے اور گولائی دینے سے روکیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آج کا دن حج کا دن ہے۔آج سب حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہیں تا خدا کے حضور دعائیں کریں اور اپنے اخلاص کا ہدیہ پیش کریں۔اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ لوگ منی سے