خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 38

1940 38 خطبات محمود کہنی چھوڑ دیں۔اس نے پوچھا کہ کیوں؟ تو وہ کہنے لگا کہ آپ کی آواز ایسی اچھی ہے کہ میری بیٹی کہتی ہے کہ مجھے مسلمانوں کا مذہب اچھا لگتا ہے اس لئے یہ نذر لے لو، اور بھی میں پیش کرتا رہوں گا اور اذان کہنا چھوڑ دو۔وہ بے چارا معمولی حیثیت کا آدمی تھالا لچ میں آگیا اور اذان کہنی چھوڑ دی۔دوسر ا جو اس کی جگہ مقرر ہوا اس کی آواز نہایت مکروہ تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ چند روز کے بعد اس سکھ رئیس کی لڑکی نے کہا کہ ابا جی معلوم ہوتا ہے میری رائے غلط تھی مسلمانوں کا مذہب کوئی ایسا اچھا معلوم نہیں ہو تا۔تو ظاہری باتوں کا بھی طبائع پر بہت اثر ہوتا ہے۔ہندوستانی ل سے پہلے ایک آؤ کی آواز نکالتے ہیں اور اس طرح پورا زور لگا کر اس آؤ کو نکالتے ہیں جس طرح مزدور کہا کرتے ہیں کہ لادے زور مگر عربی طریق یہ نہیں۔وہ ال کہیں گے جیسے بر تن میں کوئی چیز ڈالی جائے تو اس سے جھنکار پیدا ہوتی ہے۔یہ عربی زبان کی ایک خوبی ہے کہ اس میں ایک موسیقی پائی جاتی ہے اور کسی زبان میں یہ بات نہیں اور عربی کی اس خوبی کا بہترین نمونہ قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔دنیا کی کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کی نثر ترتیل کے ساتھ پڑھی جاسکے جس طرح کہ قرآن کریم پڑھا جا سکتا ہے۔اردو، انگریزی یا کسی اور زبان کی کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کی عبارت اس طرح پڑھی جاسکے جس طرح ہم ترتیل کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 پڑھتے ہیں۔اس کی بجائے اگر انگریزی کی یہ عبارت ہم ترتیل کے ساتھ پڑھیں I will go there تو وہ اس قدر مضحکہ خیز ہو جائے گی کہ ہر سننے والا ہنس پڑے گا مگر عربی کے الفاظ ایسے ہیں کہ ان کا اُتار چڑھاؤ بالکل نظم کا سا ہوتا ہے۔اس کی حرکات اپنے اند ر خصوصیات رکھتی ہیں اور جب تک ان کی اتباع نہ کریں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا منہ چڑا رہے ہیں۔آکسمنٹ (ACCENT) پر جتنا زور عربی نے دیا ہے اور کسی زبان نے نہیں دیا۔ہر لفظ کی اس کے اتار چڑھاؤ سے اچھی یا بری شکل بن جاتی ہے اور ان کی کمی بیشی سے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔مثلاًل کے معنی ضرور کے ہیں۔لیکن اگر ذراسا لمبا کر دیں اور لا کہیں تو اس کے معنی “ نہیں ”ہوں گے۔تو حرکت کے ذرا چھوٹا بڑا کر دینے سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔قرآن کریم میں يَتَّقُونَ اور يَتَّقُونِ