خطبات محمود (جلد 21) — Page 220
$1940 220 خطبات محمود ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے جسم پر مٹی پڑی ہوتی ہے ، ان کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں مگر جب وہ خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ دیتے ہیں کہ ایسا ہو گا تو اللہ تعالیٰ ویسا ہی کر دیتا ہے اور ان کی بات کو پورا کر کے چھوڑتا ہے۔3 اس قسم کا تمسخر کرتی ہے۔یہ بات کسی نبی، رسول یا مامور کے متعلق نہیں بلکہ عام مومن کے متعلق ہے۔مگر یہ وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کا کلام پڑھتے ہیں، اس کی تفسیریں شائع کرتے ہیں اور پھر ان کو بیچ کر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی روٹی کماتے ہیں۔جو اس میں پڑھتے ہیں کہ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ 4 اور اُدْعُوْنِي اسْتَجِبْ لَكُمْ 5 مگر پھر بھی بے پرواہ ہو کر اس پر سے گزر جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ ان کو صرف اتنا ہی واسطہ ہے کہ اسے بیچ کر اس سے روٹی کمالیں اور پیٹ بھر لیں اور اس میں خدا تعالیٰ کے جو وعدے مومنوں سے ہیں اور جس رنگ میں اس کی قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں ان کو وہ نظر انداز کر دیتے اور بھول جاتے ہیں۔ان کی نگاہ ہماری ظاہری حالت پر پڑتی ہے جو ہندوستان میں ادنیٰ سے ادنی اقوام کے برابر بھی نہیں۔ہر بجنوں کے ریزولیوشن حکومت کے نزدیک زیادہ وقیع ہوتے ہیں مگر ہمارے نہیں حالانکہ ہر بجن وہی لوگ ہیں جنہیں چو ہڑے اور چمار کہا جاتا ہے۔حکومت صرف تعداد کو دیکھتی ہے وہ ہندوستان میں سات کروڑ ہیں اور اگر حکومت کو ضرورت پیش آئے تو اسے سات لاکھ والنٹیر مہیا کر سکتے ہیں اور حکومت کی نظر میں دل کے اخلاص اور تقویٰ سے یہ چیز زیادہ قیمتی ہے۔اس لئے وہ احمدیوں سے زیادہ ہر بیجنوں کی قدر کرتی ہے۔1917ء میں ایک جگہ احمدی سپاہیوں کو تکلیف تھی۔میں شملہ میں تھا اور میں نے ذوالفقار علی خان صاحب یا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ایڈجوٹنٹ جنرل (ADJUTANT GENRAL) کے پاس بھیجا کہ ان کے سامنے احمدیوں کی یہ تکالیف پیش کر کے ازالہ کرائیں اور ان کو بتائیں کہ یہ لوگ حکومت کے وفادار ہیں، انہوں نے ساری عمریں فوجی سروس میں گزار دی ہیں اور اب بعض افسر دوسرے لوگوں کے شور مچانے پر ان کو نکالنا چاہتے ہیں۔وہ ملے اور یہ باتیں پیش کیں۔ایڈجوٹنٹ جنرل نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کی جماعت کے لوگوں پر ظلم ہوتے ہیں اور کہ وہ مدد کے مستحق ہیں لیکن ہمیں ہندوستان میں تین لاکھ فوج چاہیئے۔اگر ہم آپ لوگوں کی