خطبات محمود (جلد 21) — Page 219
* 1940 219 خطبات محمود اور ہوائی جہاز اور بڑے بڑے اسلحہ موجود نہیں اور اگر ان ہتھیاروں کے باوجود ہمیں فتح حاصل نہ ہو تو اس کی دعا سے کس طرح ہو سکتی ہے۔” 2 لیکن اس کے متعلق انگریزی قوم کے کسی فرد کی طرف سے تو کچھ نہیں کہا گیا اور شاید وہ کچھ نہ کہیں کیونکہ ان تک ہماری آواز اچھی طرح پہنچی بھی نہ ہو گی۔ہاں ایک ذمہ دار افسر کے متعلق مجھے اطلاع ملی ہے کہ اس کے سامنے جب یہ بات پیش ہوئی کہ مجھے دعا کے لئے لکھا جائے تو برطانیہ کو اللہ تعالیٰ فتح دے دے گا تو اس کے بعض مشیروں نے کہا کہ شاید اس طرح ہندوستان کی باقی اقوام میں بدمزگی پیدا ہو کہ ان کو کیوں لکھا گیا ہے اور بعض انگریز افسروں کی طرف سے یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ اگر جماعت کی طرف سے کوئی ایسی تحریک کی جائے تو پھر حکومت کی طرف سے بھی لکھا جاسکتا ہے مگر ہمارا اپنا کوئی ایسی بات لکھنا تو بیو قوفی کی بات ہے۔ایسی بات عام رنگ میں تو کہی جاسکتی ہے مگر معین صورت میں یہ کہنا کہ ہمیں دعا کے لئے لکھا جائے اس کی غرض کو باطل کر دیتا ہے۔لیکن پھر بھی مجھے اتنا علم ہے کہ انگریز قوم نے اس پر بنی نہیں اڑائی بلکہ نہایت ذمہ دار افسروں کے سامنے جب یہ بات پیش ہوئی تو انہوں نے اس پر نیم آمادگی کا اظہار کیا اور صرف اس بات سے ڈرے کہ دوسری قومیں یہ نہ کہیں کہ صرف احمدیوں کو دعا کی درخواست کے لئے کیوں چنا گیا ہے مگر باوجود اس بعد کے جو اس قوم کو روحانی امور سے ہے اور باوجود اس بُعد کے جو اس قوم کی شان و شوکت کو ہماری بے کسی اور بے سر و سامانی سے ہے ان کا دعا کی طرف اتنار جحان بھی ممکن ہے اللہ تعالیٰ کو پسند آجائے اور وہ اسی وجہ سے ان پر رحم کر دے۔بہر حال انہوں نے اس بات کی ہنسی نہیں اڑائی۔ہاں بعض ہندوستانیوں نے بھی جو سچائی سے ویسے ہی دور ہیں جیسے یہ لوگ اس پر ہنسی اڑائی ہے مگر وہ چونکہ ناواقف اور جاہل ہیں اس لئے مجھے ان پر تعجب نہیں لیکن ”الفضل“ میں یہ پڑھ کر مجھے تعجب ہوا کہ ہمارے پیغامی بھائی صاحبان نے بھی اس خیال کی ہنسی اڑائی ہے کہ کسی کی دعا قبول ہو سکتی ہے۔تعجب ہے کہ وہ قوم جس نے رات دن معجزات دیکھے ، وہ قوم جو رات دن دعا کی قبولیت کے نشان دیکھتی رہی، وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی علیم کی باتوں کو پڑھتے اور ان کی تفسیریں اور تشریحیں لکھتے ہیں، وہ جنہوں نے آپ کا وہ فقرہ کئی بار پڑھا ہو گا کہ بعض لوگ