خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 221

* 1940 221 خطبات محمود پر واہ کریں تو دوسرے ناراض ہو جاتے ہیں۔ہم آپ کو خوش کر دیتے ہیں مگر کیا آپ لوگ ہمیں تین لاکھ سپاہی مہیا کر دیں گے۔اس بات کا جواب وہ کیا دے سکتے تھے۔تو گور نمنٹ پر جن باتوں کا اثر ہو سکتا ہے وہ چونکہ ہمارے پاس نہیں اس لئے اس کے نزدیک ہریجن بھی ہم سے زیادہ وقیع ہیں اور اس لحاظ سے ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ ہماری کمزوری اور ناتوانی سب قوموں سے زیادہ ہے۔ہندو ملک میں کافی طاقتور ہیں مگر مسلمانوں کی تعداد بھی سات آٹھ کروڑ ہے۔اس لئے ان کی آواز بھی بے اثر نہیں۔بعض صوبوں میں مسلمانوں کی طاقت زیادہ ہے۔پنجاب میں سکھوں کی آواز بھی بے اثر نہیں کیونکہ ان کی تعداد تیس چالیس لاکھ ہے۔ادنیٰ اقوام کہلانے والے غریب ہیں مگر ان کی آواز بھی بے اثر نہیں کیونکہ ان کی تعداد سات کروڑ ہے۔حکومتوں کو ہر وقت روپیہ ہی کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات آدمیوں کی بھی ہوتی ہے۔روپیہ کے لئے جہاں اسے سرمایہ داروں ساہوکاروں اور کار خانہ داروں کی ضرورت پڑتی ہے وہاں فوجی بھرتی کے وقت اسے مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں کی ضرورت ہوتی ہے اور مزدوری نیز کئی اور فوجی کاموں کے لئے ہر بیجنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر اس کی کون سی ضرورت ایسی ہے جسے احمدی جماعت پورا کر سکتی ہے۔ہم حکومت کو روپیہ نہیں دے سکتے، فوجی سپاہی نہیں دے سکتے ، مزدور نہیں دے سکتے۔پھر وہ ہماری کیسے مدد کر سکتی ہے؟ کیونکہ جن چیزوں کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ان میں سے کوئی بھی ہم مہیا نہیں کر سکتے۔قومی لیڈروں کو بھی ان چیزوں کی ہی ضرورتیں پیش آتی ہیں۔ان کو روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ روپیہ والوں سے صلح پر مجبور ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گاندھی جی اپنے چرخہ 6 کے باوجود مسٹر برلا کے ہی مہمان ٹھہرتے ہیں اور کچھ عرصہ ہوا جب ایکسچینج مارکیٹ کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر میں ان تاجروں کی مخالفت کروں تو گاندھی نہیں رہ سکتا۔وہ ہر بجنوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی ان کی طاقت کو بڑھانے کا موجب ہیں مگر کون سی چیز ہمارے پاس ایسی ہے جس کے لئے سیاسی لیڈر ہماری طرف توجہ کر سکتے ہیں۔ہمارے پاس نہ روپیہ ہے اور نہ آدمی اور نہ ہی ہماری آواز کوئی اثر رکھتی ہے۔پھر ظاہری مذہبی لیڈر ہوتے ہیں ان کے لئے بھی اسی قسم کی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ جب وہ