خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 75

1940 75 خطبات محمود کمزور ہو تا جا رہا ہے۔بہت غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ باورچی کا جو فن تھا اسے میں نے کمال تک پہنچا دیا ہے اور اب چونکہ اس میں ترقی نہیں ہو سکتی اس لئے میرا دنیا میں کوئی کام نہیں رہا۔اگر اس کے دل پر کسی طرح یہ اثر ڈال دیا جائے کہ ابھی تمہارا کام ختم نہیں ہوا اور تم اس فن میں اور زیادہ ترقی کر سکتے ہو تو ممکن ہے اس کی یہ حالت بدل جائے۔وہ منیجر ذہین آدمی تھا اس نے یہ سنتے ہی فوراً اسسٹنٹ باورچی کو بلایا اور کہا کہ فلاں جیلی جو یہ باور چی بنایا کرتا تھا اور دوسرے اس کے خاص نسخوں کے مطابق پکنے والے کھانے اس کے لئے فوراً تیار کرو اور یہ حکم دے کر وہ باورچی کے پاس گیا اور کہنے لگا ہم نے یہ تجویز کیا ہے کہ آخری دفعہ ہوٹل کی طرف سے تمہاری ایک شاندار دعوت کر دی جائے۔تم کہا کرتے ہو کہ میں نے اپنے شاگرد کو تمام علم سکھا دیا ہے اور کوئی کھانا ایسا نہیں رہا جس کی تیاری کی ترکیب اسے نہ بتا دی ہو۔اس رنگ میں نہ صرف تمہارے اس شاگرد کا امتحان ہو جائے گا اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس نے تمہارا فن کہاں تک سیکھا بلکہ ہوٹل کی طرف سے تمہاری دعوت بھی ہو جائے گی۔پھر اس نے کہا وہ جو تم جیلی تیار کیا کرتے تھے اور جو پینتالیس ذائقوں والی ہوا کرتی تھی میں نے وہ بھی تمہارے شاگر د کو تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔اسی طرح اور کھانے بھی تیار کر کے تمہارے سامنے لائے جائیں گے تاکہ تم اندازہ لگا سکو کہ اس نے یہ فن کہاں تک سیکھا ہے۔اس نے کہا یہ بڑی اچھی بات ہے اس طرح مجھے بھی پتہ لگ جائے گا کہ میر اما تحت جیلی اور دوسرے کھانے کیسے پکاتا ہے۔یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا آیا اور جب اس نے دیکھا کہ اسسٹنٹ باورچی خیلی تیار کر رہا ہے تو اس کی نظر بچا کر اس نے ایک تیز خوشبو اس جیلی میں ڈال دی تاکہ وہ بد مزہ ہو جائے اور جب باورچی اسے کھائے تو اسے یقین ہو جائے کہ یہ کھانا پکانا پوری طرح سمجھا نہیں اور میرے لئے دنیا میں ابھی کچھ کام باقی ہے چنانچہ جب جیلی اور دوسرے کھانے تیار کر کے اس کے سامنے لائے گئے تو اس نے پہلے جیلی اٹھائی اور جب اسے کھانے لگا تو چونکہ ایک تیز خوشبو کی وجہ سے وہ بد مزہ ہو چکی تھی اس لئے اسے چکھتے ہی فوراً اٹھ بیٹھا اور بے تحاشا اس اسسٹنٹ باورچی کو گالیاں دینے لگ گیا کہ نالائق تو نے میری ساری عمر کے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔میں ہمیشہ تجھے کھانا پکانے کے طریق