خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 74

$1940 74 خطبات محمود حملہ معمولی حملہ نہیں بلکہ جب بھی ان کی جماعت سے ان لوگوں کا اثر دور ہوا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت اٹھائی ہوئی ہے وہ اپنی ساری جماعت کو غیروں کے قدموں میں ڈال دیں گے۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس قدر کوششیں اپنی جماعت کے قیام کے لئے کیں غیر مبائعین ان تمام کو تباہ کرنے والے ہیں۔پھر امت محمدیہ پر روحانیت کا دروازہ بھی انہوں نے بند کر دیا ہے کیونکہ کہتے ہیں کہ آج امت محمدیہ میں کوئی ایسا انسان نہیں ہو سکتا جو وہ مقام حاصل کر سکے جو پہلے لوگوں نے حاصل کیا۔بظاہر وہ اس طرح ہم پر حملہ کرتے ہیں لیکن دراصل وہ امت محمدیہ کی ہتک کرتے ہیں اور امت محمدیہ کی ہی نہیں رسول کریم صلی ال نیم کی بھی ہتک کرتے ہیں کیونکہ امت محمدیہ کے لوگوں کے دلوں سے امید کا نکال دینا اسے قتل کر دینے کے مترادف ہے انسان کی تمام زندگی امید پر ہوتی ہے تم کسی انسان کے دل سے امید نکال دو اس کی تمام ترقی یکدم رک جائے مدت ہوئی میں نے ایک کہانی پڑھی تھی کہ فرانس کے کسی ہوٹل کا ایک باورچی تھا جو دو تین ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ لیتا اور اپنے فن میں اس قدر مہارت رکھتا کہ دور دور سے لوگ اس ہوٹل میں آتے اور اس کا پکا ہوا کھانا کھا کر محظوظ ہوتے۔ایک دفعہ وہ بیمار ہوا اور روز بروز کمزور ہو تا چلا گیا حتی کہ وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ چار پائی سے اٹھ بھی نہ سکتا۔ڈاکٹروں نے اسے دیکھا تو کہا کہ اب آہستہ آہستہ یہ اس رنگ میں کمزور ہوتا جارہا ہے کہ اس کا نتیجہ سوائے موت کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔مگر وہ اس کی بیماری کی تشخیص نہ کر سکے۔صرف یہی کہتے تھے کہ روز بروز کمزور ہو رہا ہے اور یہ کمزوری چونکہ بڑھتی چلی جارہی تھی اس لئے زندگی کی اب زیادہ امید نہیں ہو سکتی۔ایک دن اس ہوٹل کے منیجر نے ڈاکٹر سے بات کی اور کہا کہ کیا کوئی صورت اس کی زندگی کی نہیں ہو سکتی؟ ڈاکٹر نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اس کے دل میں مایوسی پید اہو چکی ہے۔کسی طرح تم اس کی مایوسی کو دور کر دو تو اس کے اندر طاقت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔منیجر نے کہا تمہیں یہ کس طرح معلوم ہوا؟ وہ کہنے لگا میں نے اس سے باتیں کی ہیں اور میں نے یہ معلوم کرنے کی بہت کوشش کی ہے کہ آخر اسے کیا صدمہ ہے جس کی وجہ سے یہ روز بروز