خطبات محمود (جلد 21) — Page 55
1940 55 خطبات محمود ہوئی مگر جب مجھے پتہ لگ گیا میں نے اصلاح کر لی لیکن ان کے مقابل پر مولوی محمد علی صاحب بھی مضامین لکھتے ہیں اور کہتے ہیں نہیں آپ کو غلطی نہیں لگی تھی حالانکہ مولوی غلام حسن خان صاحب کی پوزیشن بالکل مضبوط ہے۔انہوں نے ایک وقت بیعت نہیں کی تھی اور دوسرے وقت کر لی۔اور جو شخص یہ مان لے کہ پہلے میں غلطی پر تھا اس پر اعتراض کیا ہو سکتا ہے ؟ مگر مولوی محمد علی صاحب برابر اعتراض کرتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اتنی جلدی تبدیلی آپ کے اندر کیونکر پیدا ہو گئی ؟ وہ اس بیعت پر بد ظنی کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس میں شاید ان کا کوئی فائدہ ہے حالانکہ اگر بیعت کر لینے میں کوئی فائدہ نظر آتا تو وہ حضرت خلیفہ اول کی بیعت کیوں نہ کر لیتے ؟ پہلے میرا خیال تھا کہ انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی بیعت کی ہوئی تھی۔سندھ کے سفر میں بھی کسی دوست نے پوچھا تھا تو میں نے کہا تھا کہ میر اخیال ہے کی ہوئی تھی مگر آج ان کے مضمون سے پتہ لگا ہے کہ نہیں کی تھی۔مولوی غلام حسن خان صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کو جواب دیا ہے کہ آپ کو علم ہے میں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت بھی نہیں کی تھی۔اگر میرے دل میں کوئی بد دیانتی ہوتی تو میں اُسی وقت کیوں نہ بیعت کر لیتا مگر میں نے اس وقت بھی دلیری سے کام لیا اور نہ کی۔لیکن اب کہ میں نے سمجھا بیعت ضروری ہے میں نے کر لی اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ پہلے میں غلطی پر تھا۔اب اس میں اعتراض کی بات ہی کون سی ہے ؟ یا تو مولوی محمد علی صاحب یہ فیصلہ کر دیں کہ انسان کبھی غلطی کر ہی نہیں سکتا اور اگر کر سکتا ہے تو اس کی اصلاح کو نسا جرم ہے؟ اور ان کے مقابلہ میں خود مولوی محمد علی صاحب کی کیا پوزیشن ہے ؟ انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی بیعت کی اور ان کے احباب نے یہ اشتہار دیا کہ یہ بیعت مطابق الوصیت ہے۔مگر آج وہ خلافت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ الوصیت کسی ایک فرد کی خلافت کے خلاف ہے۔لیکن یہ کہنے کی جرات نہیں کرتے کہ ہم نے اس وقت الوصیت کے مطابق خلافت سمجھی تھی مگر اب ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ یہ عقیدہ غلط تھا۔اسی طرح وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو آپ کو نبی اور رسول لکھتے رہے ، عدالت میں حلفیہ بیان دیا اور کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نبی ہیں مگر اب کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ تو شروع سے ہی ا