خطبات محمود (جلد 21) — Page 54
$1940 54 خطبات محمود یار عایت کی ہے یا توجہ نہیں کی۔یہ سب الفاظ قریباً ہم معنی ہیں مگر میرے تجربہ میں یہی آیا ہے کہ یہ بات غلط ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے قاضیوں کے فیصلے غلط بھی ہوئے ہیں، بعض نے گواہی پوری نہیں لی ہوتی یا ایسی جرح ہونے دی ہے جو نہیں چاہیئے تھی مگر یہ سب باتیں عام حالات کے ماتحت تھیں۔یہ میں نے نہیں دیکھا کہ جان بوجھ کر کسی نے کوئی بد دیانتی کی ہو۔میں یہ بھی نہیں کہتا کہ کبھی کسی قاضی نے کوئی حرکت بد دیانتی سے نہیں کی ہو گی۔ممکن ہے کی ہو مگر وہ ایسی ہی ہو گی جو مجھے نظر نہیں آئی۔انسان کمزور ہے کمزوریاں بھی سرزد ہوئی ہوں گی مگر وہ ایسی باریک کہ ان کا پکڑنا مشکل ہے۔تو بیشتر حصہ جماعت کا سچ ہی بولنے والا ہے مگر کئی لوگ ایسے بھی میں نے دیکھے ہیں جو جھوٹ بول لیتے ہیں اور سچی بات ان کے منہ سے اسی طرح نکالنی پڑتی ہے جس طرح شیر کے منہ میں سے گوشت کا لوتھڑا۔جس میں ہاتھ بھی زخمی ہو جائیں۔وہ چبا چبا کر بات کریں گے اور پھر جرح پر کوئی بات بتائیں تو بتائیں گے اور پھر جب دریافت کیا جائے کہ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا تو کہیں گے کہ جی خیال نہیں کیا تھا۔دھیان نہیں تھا۔ان کے مُنہ سے سچی بات کہلوانا ایسا ہی مشکل ہوتا ہے جیسا شیر کے منہ سے گوشت کا لوتھڑا نکالنا مگر بیشتر حصہ سچ بولنے والا ہے۔گو وہ بھی سچائی کے اس معیار پر نہیں جو قرآن کریم قائم کرنا چاہتا ہے مگر نسبتاً دوسروں سے اچھے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ جب تک وہ سچائی کا کامل معیار اختیار نہیں کرتے دوسروں پر ان کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔سچائی کے قیام کے لئے پہلے خود مثال قائم کرنی چاہیے۔جو ماں بچہ کے سامنے خود جھوٹ بولتی ہے اس کی نصیحت کا بچہ پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔بعض مائیں بچوں کو ایسی تعلیم دیتی ہیں جو جھوٹ ہو مثلاً کہہ دیا کہو اماں گھر نہیں ہیں یا ہاتھ سے روپوؤں کی پوٹلی باندھتی جاتی ہے اور بچہ سے کہتی جاتی ہے کہ کہہ دو ہمارے ہاں روپیہ نہیں ہے۔اس کا بچہ سچ بولنا کبھی نہیں سیکھ سکتا۔پس سچائی کی تعلیم دینے کے لئے خود بھی سیچ اختیار کرناضروری ہے۔مذہبی مسائل میں بھی یہی طریق اختیار کرنا چاہیئے۔مجھے آج یہ بات بیان کرنے کا خیال “الفضل ” میں مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری کا مضمون پڑھ کر ہؤا۔میں نے دیکھا ہے ان کے مضمون میں ایک بے ساختہ پن ہے وہ صاف کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک غلطی