خطبات محمود (جلد 21) — Page 56
$1940 56 خطبات محمود آپ کو نبی نہیں مانتے تھے۔حالانکہ اگر وہ سچائی سے کام لیتے تو ان کی پوزیشن بہت زیادہ مضبوط ہوتی۔وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم پہلے ایسا سمجھتے تھے اس لئے اس کا اظہار بھی کرتے تھے مگر اب پتہ لگ گیا ہے کہ وہ ہماری غلطی تھی مگر وہ ایک واقعہ کا جو ہو چکا ہے انکار کرتے ہیں جس سے ان کی پوزیشن کس قدر خراب ہو جاتی ہے۔ہم یہ معاملہ کسی ثالث کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں۔مذہبی مسائل میں تو ہم ثالثوں کے قائل نہیں مگر یہ کوئی مذہبی سوال نہیں بلکہ بعض عبارتوں کے مفہوم کا سوال ہے اور اردو ادب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے تیار ہیں کہ ادیبوں سے اس بات کا فیصلہ کر لیا جائے۔ہم ان کی پہلی تحریریں ان کے پیش کر دیں گے کہ ان کا پہلا عقیدہ یہ تھا اور وہ کہہ دیں کہ میں پہلے بھی نبی نہیں مانتا تھا۔اس کے بالمقابل وہ کہتے ہیں کہ میں پہلے نبی نہیں مانتا تھا اب ماننے لگا ہوں۔اس کے متعلق وہ بھی جو تحریر میں چاہیں پیش کر دیں اور میں ان کا جواب لکھ دوں گا اور پھر فیصلہ کر الیا جائے کہ ان سب تحریروں کے مفہوم وہ صحیح ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں یا جو وہ کہتے ہیں۔اگر ثالث یہ فیصلہ کر دیں کہ مولوی صاحب کا عقیدہ پہلے بھی وہی تھا جو اب ہے تو ہم مان لیں گے کہ وہ صحیح کہتے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کبھی اس فیصلہ کی طرف نہیں آئیں گے۔ان کی غرض ایسی باتوں سے صرف یہ ہے کہ ان کے پہلے عقائد اور خیالات پر پر وہ پڑ جائے جیسے ملزم جب پکڑا جاتا ہے تو وہ اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دشمنوں نے خواہ مخواہ مجھ پر الزام لگا دیا ہے۔ان کی تحریریں موجود ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نبی آخر الزمان ہیں، مجد دین اور ان میں یہ فرق ہے۔مگر آج کہتے ہیں کہ میں نے کبھی یہ بات کہی ہی نہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر پہلے بھی آپ نبی نہ کہتے تھے اور آپ کی تحریروں سے نبوت کا ثبوت نہیں ملتا تو ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں اور یہ کیوں کہتے ہیں کہ کسی کی تحریر یا قول کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں۔انہیں تو چاہیے کہ خود تحریک کر کے دوسروں کو ان کی طرف متوجہ کریں۔وہ چونکہ جانتے ہیں کہ لوگ ان تحریروں کو پڑھ کر ضرور متاثر ہوں گے اس لئے کہتے جاتے ہیں کہ زید یا بکر کے قول کا کوئی اعتبار نہیں اور وہ حجت نہیں ہو سکتا۔جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں۔مولوی غلام حسن خان صاحب کے مضمون کو دیکھ کر صاف پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے