خطبات محمود (جلد 21) — Page 436
$1940 435 خطبات محمود وہ بھی مقابلہ کرتا اور اسے دق کر دیتا ہے۔پھر ہمارا تو کسی طاقت پر بھروسہ نہیں۔ہمارا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا حافظ ہے۔تلواروں، ٹکوؤں اور لاٹھیوں کا رُعب ہمیں دبا نہیں سکتا۔اور نہ ہم کسی کو دبانا چاہتے ہیں۔گو یہ لوگ ہمارے شدید دشمن ہیں مگر ہم پھر بھی ان سے اور ان کی اولادوں سے محبت کرتے ہیں۔ہم نے ان پر غلبہ ضرور حاصل کرنا ہے مگر تلوار یا بندوق سے نہیں بلکہ دلائل اور پیار سے۔تقریروں میں کہا گیا ہے کہ ہم ظلم کرتے ہیں مگر میں کہتا ہوں جا کر علاقہ میں سکھوں، ہندوؤں اور مسلمانوں سے پوچھو کہ ہم ان پر کیا ظلم کرتے ہیں۔علاقہ کے سکھوں اور ہندوؤں کے ساتھ ہمارا لین دین ہے۔ہم ان سے برابر چیزیں خریدتے ہیں۔قادیان میں حالات مختلف ہیں۔اگر ان کو اس وجہ سے غصہ ہے کہ ہم یہاں کے بعض ہندو اور سکھ دکانداروں سے بعض چیزیں نہیں خریدتے تو ان کو ہندوؤں پر غصہ کیوں نہیں آتا جنہوں نے ایک لاکھ سال سے دوسری قوموں سے سودا و غیرہ خرید نابند کر رکھا ہے۔پہلے ان کو چاہیے کہ اس ظلم کو دور کریں۔بہادر قوم ہمیشہ بڑا کام کیا کرتی ہے۔سکھ بھی اپنے آپ کو بہادر کہتے ہیں اس لئے ان کو چاہیے کہ پہلے ہندوؤں کے اس ظلم کو دور کریں اور اس نا انصافی کا خاتمہ کریں جو وہ اتنے لمبے عرصے سے کر رہے ہیں۔ہم کسی جگہ کوئی دکان کھولتے ہیں ہم پر اعتراض کرنے والے ہندوؤں اور سکھوں کو لائیں کہ وہاں سے کھانے پینے کی چیزیں خریدیں۔ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں یہ بات موجود ہے کہ ہندو اور سکھ مسلمانوں سے کھانے پینے کی چیزیں نہیں خریدتے اور جب سارے ملک میں یہ بات موجود ہے تو ان کا سارا غصہ قادیان پر ہی کیوں ہے۔اگر اس وجہ سے وہ قادیان کے مکانات گرانے پر آمادہ ہوتے ہیں تو ان کا اولین فرض ہے کہ پہلے بنارس کی دکانیں اور مکانات گرائیں، کاشی کے گرائیں، بمبئی میں گرائیں جہاں ہند و محلوں میں مسلمانوں کو کرایہ پر بھی مکانات نہیں دیئے جاتے۔میں ایک دفعہ بمبئی گیا تو وہاں رہنے کے لئے کرایہ پر مکان ملنا مشکل ہو گیا مہاراجہ اندور 1 کے پرائم منسٹر وہاں آئے ہوئے تھے۔ان کا مکان جو ساحل سمندر کے پاس تھا۔حضرت اماں جان میرے ساتھ تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ ساحل کے قریب کسی