خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 437

$1940 436 خطبات محمود مکان میں رہیں۔میں اندور کے پرائم منسٹر صاحب کے پاس گیا اور پوچھا کہ آپ کب تک یہاں رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے رہنا تو ابھی پندرہ روز اور تھا مگر آپ کو ضرورت ہے اور آپ ہمارے علاقہ کے رئیس ہیں (وہ پنجاب کے رہنے والے تھے ) اس لئے میں آپ کی خاطر پہلے ہی مکان خالی کر دیتا ہوں۔مگر جب ہمارے آدمی سامان وغیر ہ رکھنے کے لئے گئے تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ محلہ کے سارے ہند و جمع ہو کر میرے پاس آئے ہیں کہ آپ ایک مسلمان کو مکان دینے لگے ہیں۔پس جن لوگوں کو ہم پر غصہ آتا ہے اور اس وجہ سے ہمارے مکان ڈھانا چاہتے ہیں انہیں چاہتے کہ پہلے بمبئی جا کر وہاں کے ہندوؤں کے مکانات ڈھائیں۔پھر قادیان پر ان کا حملہ اچھا لگے گا۔ہم نے قادیان میں جو بعض پابندیاں لگارکھی ہیں وہ بعض مخصوص حالات کی وجہ سے ہیں اور ان کا مقصد صرف امن قائم رکھنا ہے۔ہم نے یہ محض اس شرارت کی وجہ سے لگارکھی ہیں جو یہاں کے ہندو اور سکھ دکانداروں نے ایک مرتبہ کی تھی کہ اپنی دکانوں کا سامان باہر پھینک کر مشہور کر دیا کہ احمدیوں نے ہماری دکانیں لوٹ لی ہیں۔ورنہ سکھ دیہات میں جا کر پوچھو کہ ہم سکھوں سے چیزیں لیتے ہیں یا نہیں۔قادیان میں خاص معاملہ ہے جس کی وجہ انہیں دریافت کرنی چاہیے تھی۔اور اگر یہ ظلم ہے تو یہ ظلم سارے ہندوستان میں ہندو اور سکھ کر رہے ہیں۔ان کو چھوڑ کر صرف ہم پر حملہ کرنے کی وجہ کیا صرف یہ ہے کہ ہم تھوڑے ہیں۔میں سمجھتا ہوں علاقہ کے ہندوؤں اور سکھوں کے اخلاق اور انصاف کا تقاضا تھا کہ وہ خود بخود ان باتوں کی تردید کرتے اور اب بھی انصاف اور اخلاق ان سے ان باتوں کی تردید کا تقاضا کرتے ہیں۔کیا گاؤں کے سکھ سیکھ نہیں ہیں ؟ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ قادیان کے سکھوں کی نسبت وہ زیادہ پکے سکھ ہیں۔وہ زیادہ قربانیاں کرتے ہیں۔قادیان کے سکھ ہمیشہ ان سے امداد حاصل کرتے ہیں۔پھر ان کے زیادہ پکے سکھ ہونے کے باوجود ہم ان کے ساتھ کیوں معاملات کرتے ہیں۔پس قادیان کے سکھوں اور ہندوؤں سے اگر ہم چیزیں نہیں لیتے تو یہ اور بات ہے اور بعض مجبوریوں کی وجہ سے ہے۔ورنہ ہم سکھوں اور ہندوؤں سے برابر لین دین کرتے ہیں اور ہمیں خواہ مخواہ بدنام کیا جاتا ہے۔بعض ایسے دیہات میں جہاں احمدیوں کی کثرت ہے سکھ رہتے ہیں۔ضلع سیالکوٹ میں بعض ایسے گاؤں ہیں اور بعض سکھ جلسہ سالانہ