خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 435

$1940 434 خطبات محمود میں گزرے ہیں۔پس ایسی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا۔سینکڑوں لوگ ابھی تک اس علاقہ میں ایسے موجود ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادوں سے سنا ہو گا کہ ہمارا خاندان یہاں مُلاں تھایا حاکم۔تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ جب ملتان کے صوبہ نے بغاوت کی تو ہمارے تایا صاحب نے ٹوانوں کے ساتھ مل کر اسے فرو کیا تھا اور اسی وقت سے ٹوانوں اور نون خاندان کے ساتھ ہمارے تعلقات چلے آتے ہیں۔پس جہاں تک شرافت کا سوال ہے ہمارے خاندان نے سکھ حکومت سے نہایت دیانتداری کا برتاؤ کیا اور اس کی سزا کے طور پر انگریزوں نے ہماری جائداد ضبط کر لی۔ورنہ سری گوبندرپور کے پاس اب تک ایک گاؤں موجو د ہے جس کا نام ہی مغلاں ہے اور وہاں تک ہماری حکومت کی سرحد تھی اور اس علاقہ کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں تک ہماری حکومت تھی۔اور یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب سے پہلے کی بات ہے۔آج اگر گالیاں دی جائیں تو اس سے کچھ نہیں بنتا۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہم اس علاقہ کے حاکم تھے اور سکھوں کا قادیان پر حملہ کرنا ہی بتاتا ہے کہ یہاں حکومت تھی۔ہمارے دادا صاحب کپور تھلہ کی ریاست میں چلے گئے تو مہاراجہ کپور تھلہ نے ان کو دو گاؤں پیش کئے۔گو انہوں نے لئے نہیں مگر کیا ایسے تحفے ملانوں کو پیش کئے جاتے ہیں؟ اسی احراری ملاں سے پوچھو کہ آج بھی وہاں کسی علانے کو دو گاؤں پیش کئے جاسکتے ہیں۔عنایت اللہ صاحب خودملاں ہیں اور قاضی بھی کہلاتے ہیں۔پھر ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا سارے علاقہ پر رعب ہے۔وہ خود وہاں چلے جائیں اور دیکھ لیں کہ مہاراجہ کپور تھلہ ان کو دو گاؤں پیش کرتے ہیں۔اگر وہ اس طرح ملانوں کو دو دو گاؤں دینے لگیں تو دو سال میں ان کی ریاست ختم ہو جائے۔زیادہ سے زیادہ 3 ،4 سو گاؤں اس ریاست میں ہوں گے اور اگر وہ دو دو گاؤں تقسیم کرنے لگیں تو دو سو روز میں ان کی ریاست ختم ہو جائے۔پس ایسی باتوں سے جو تاریخ اور عقل دونوں کے خلاف ہوں کچھ فائدہ نہیں۔بات وہ کرنی چاہئیے جو تاریخ اور عقل کے مطابق ہو اور جس سے امن پیدا ہو تا ہو۔ہم ایک ہی جگہ کے رہنے والے ہیں اس لئے ہمارے درمیان فساد والی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔کسی کا یہ خیال کرنا کہ احمدی تھوڑے ہیں اور کوئی قوم ان کو مار سکتی ہے اور ان کے مکان اور جائدادیں تباہ کر سکتی ہے بالکل غلط خیال ہے۔ایک بچہ کو بھی اگر زبر دست پہلوان کنویں میں پھینکنا چاہے تو