خطبات محمود (جلد 21) — Page 371
$1940 370 خطبات محمود میاں ! اس دھوپ میں کیوں بیٹھے ہو ؟ کیوں نہیں اٹھ کر اس سائے کے نیچے بیٹھ جاتے جہاں سے تم کو آرام اور آسائش حاصل ہو سکتی ہے۔یہ سن کر اس شخص نے اپنے ہاتھ بڑھا دیئے اور کہا کہ میں بیٹھ تو جاتا ہوں پر تم مجھے کیا دو گے ؟ ہم کتنا اس بات کو مضحکہ خیز سمجھتے ہیں مگر کس طرح ہم میں سے کئی یہی بات روز مرہ اپنے معاملات میں عملاً کر کے دکھاتے ہیں اور اس پر انہیں ذرا بھی تعجب نہیں آتا۔رسول کریم صلی اللی علم فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصہ میں آسمان سے اترتا ہے اور اس کے فرشتے لوگوں کو آوازیں دیتے پھرتے ہیں کہ مانگو تمہیں دیا جائے گا، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے لئے کھولا جائے گا 1 مگر کتنے ہیں جو اس آواز کو سن کر دوڑ پڑتے ہیں کہ یہ مانگنے کا وقت ہے ہم مانگیں گے ، یہ کھٹکھٹانے کا وقت ہے ہم کھٹکھٹائیں گے۔کیا وہ اس سے زیادہ احمق نہیں جو دھوپ میں بیٹھا ہوا اس امید میں تھا کہ کوئی مجھے پیسے دے تو میں سائے میں بیٹھ جاؤں۔اسی طرح تم میں سے بہت ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے اگر نماز پڑھی یا روزہ رکھا تو یہ ہم خدا پر احسان کرتے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا خالق اور مالک ہے اور وہ اپنی محبت کے لئے ہم کو بلاتا اور احسان کرنے کے لئے ہمیں پکارتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ وہ اس کے احسان کی قدر کریں اور اس کے اس انعام کی شکر گزاری کریں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نماز پڑھ کر یا روزہ رکھ کر خدا پر احسان کر دیا۔میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے نماز چھوڑی ہوئی تھی اور جب میں نے اس بارہ میں بعض دوستوں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا خیال ہے میں بڑی تہجد گزاری کر چکا ہوں اور نمازیں بھی خوب پڑھ چکا ہوں اب مجھے ضرورت نہیں کہ میں نمازیں پڑھوں یا روزے رکھوں۔گویا ایک قرضہ تھا جو اس نے ادا کر دیا اور جب دو سویا تین سو یا چار سو یا پانچ سو نمازیں اس نے پڑھ لیں تو وہ قرض اتر گیا۔اب کیا ضرورت رہی کہ وہ نمازیں پڑھے۔اور میں نے دیکھا کہ وہ شخص قریباً بلاناغہ سینما جاتا اور سمجھتا تھا کہ اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔گویا جو اپنے نفس کا عیش تھا اس کے لئے تو اسے وقت مل جاتا تھا اور اس کے لئے جانا وہ کسی دوسرے پر احسان نہیں سمجھتا تھا مگر جو خدا کے حضور حاضر ہونے اور نماز پڑھنے کا معاملہ تھا