خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 372

$1940 371 خطبات محمود اس میں وہ سمجھتا تھا کہ اس کے ذمہ ایک قرض تھا جو اس نے ادا کر دیا ہے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لئے رحمت اور برکت کے دروازے کھولتا ہے یہ رحمت اور برکت کے دروازے جن دنوں میں کھلتے ہیں ان سے فائدہ اٹھانا ایک عقلمند انسان کی علامت ہے اس میں ہر گز کسی ایمان کا دخل نہیں، کسی خاص صلاحیت کا دخل نہیں۔اگر کسی شخص میں معمولی سے معمولی عقل بھی ہو تو وہ اس موقع کو غنیمت سمجھے گا اور کوئی پاگل ہی ہو گا جو ایسے موقع کو ضائع کر دے۔مجھے روزوں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ میرے کسی سابق خطبے کی وجہ سے جو کئی سال ہوئے میں نے پڑھا تھا بعض نوجوان ہٹے کٹے اور مشٹنڈے اس بناء پر روزے نہیں رکھتے کہ روزہ رکھنے کے لئے میں نے 18 سال عمر کی شرط لگائی ہے اور چونکہ وہ ابھی اس عمر کو نہیں پہنچے اس لئے وہ روزہ بھی نہیں رکھ سکتے۔یہ کہ میں نے روزہ رکھنے کے لئے 18 سال عمر کی شرط لگائی ہوئی ہے یہ درست نہیں۔میں نے وہ خطبہ تو نہیں دیکھا مگر اس کا مضمون مجھے اچھی طرح یاد ہے جو کچھ میں نے اس خطبہ میں کہا تھا وہ یہ تھا کہ 18 سال کی عمر تک نشوو نما کا زمانہ ہوتا ہے اور اس وقت کا قانون 18 سال کے بعد کے قانون سے مختلف ہے۔اس نشو و نما کے زمانہ میں اگر کوئی شخص روزہ نہیں رکھتا بوجہ اس کے کہ اس کی صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے یا اس کو اپنے اندر کوئی ایسی کمزوری محسوس ہوتی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ خیال کرتا ہے کہ روزہ رکھنا میری صحت کو اور زیادہ نقصان پہنچا دے گا تو میرے نزدیک اس نشو و نما کے زمانہ میں اگر وہ دیانتداری کے ساتھ اس یقین پر قائم ہے کہ روزہ رکھنا اس کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے یا اسے غیر معمولی طور پر کمزور کر دیتا ہے تو روزہ نہ رکھنا اس کے لئے جائز ہے مگر اس بات میں اور اس بات میں کہ 18 سال کی عمر تک روزہ رکھنا معاف ہے زمین اور آسمان کا فرق ہے۔میرا منشاء صرف یہ تھا کہ 18 سال سے پہلے اور بعد کی عمر میں بلحاظ قانون فرق ہے۔18 سال کی عمر کے بعد کسی کی طرف سے کمزوری کا عذر ہونا ہر گز کوئی عذر نہیں سمجھا جا سکتا۔سوائے اس کمزوری کے جو بیماری کے مترادف ہو اور جس کے متعلق ڈاکٹر یہ کہے کہ یہ شخص ایسا کمزور ہے کہ اگر اس نے روزے رکھے تو اسے سل یا دق یا کوئی اور مرض ہو جائے گا۔گویا 18 سال کے بعد