خطبات محمود (جلد 21) — Page 370
$1940 369 27 خطبات محمود رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی عظیم الشان برکات اور نوجوانوں کی ایک غلط فہمی کا ازالہ فرمودہ 25 اکتوبر 1940ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آجکل رمضان کا آخری عشرہ شروع ہے اور جیسا کہ احباب واقف اور آگاہ ہیں یہ دن خصوصیت کے ساتھ دعاؤں کے ہیں اور ان ایام میں اللہ تعالیٰ مومنوں کی دعائیں زیادہ سنتا اور ان کی گریہ وزاری کو قبول فرماتا ہے۔پس ان ایام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا اپنی ہی خوش بختی کی دلیل اور علامت ہے۔اللہ تعالیٰ کو تو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کا بندہ اس سے کچھ مانگتا ہے یا نہیں۔اس نے تو دینا ہے اور دینے والے کو کیا حاجت ہوا کرتی ہے۔جس نے لینا ہے حاجت تو اسے ہوتی ہے مگر باوجود اس کے وہ دینے والا تو پکارتا ہے اور جس نے لینا ہے وہ سستی دکھاتا ہے۔ہم کتنا ہنستے ہیں اس واقعہ کو سن کر جو ایک مثل کے طور پر ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ کوئی سر د ملک کا باشندہ گرمی کے موسم میں سخت تیز اور تپتی ہوئی دھوپ میں بیٹھا تھا، پسینہ ٹپک رہا تھا، منہ سرخ ہو رہا تھا، آنکھیں لال ہو رہی تھیں، سانس پھولا ہوا تھا اور پاس ہی اس کے ایک دیوار یا درخت کا سایہ تھا جہاں بیٹھ کر اس کی ساری تکلیفیں رفع ہو سکتی تھیں۔کوئی شریف آدمی جو وہاں سے گزرا اور اس نے اس کی اس حالت کو دیکھا تو اس نے کہا