خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 22

$1940 22 خطبات محمود توڑ ڈالو۔وہ تو وہاں جا بھی نہیں سکتا پھر اس سے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کو توڑ ڈالے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تو وہاں پہنچ بھی نہ تھی جہاں خدا آپ کو پہنچانا چاہتا تھا۔بھلا کون سے ذرائع آپ کے پاس ایسے موجود تھے کہ آپ امر تسر کے لوگوں تک ہی اپنی آواز پہنچا سکتے یالا ہور، بمبئی اور کلکتہ کے لوگوں تک یہ الہی پیغام پہنچاسکتے۔یا کون سے ذرائع آپ کے پاس ایسے موجود تھے کہ آپ عرب کے لوگوں کو بیدار کر سکتے۔یا آپ انگلستان اور امریکہ تک اپنی اواز پہنچا سکتے ؟ ہزاروں آوازیں دنیا میں گونج رہی تھیں، ہزاروں قومیں دنیا میں موجو د تھیں، بیسیوں حکومتیں دنیا میں پائی جاتی تھیں جن کی نگاہ میں حضرت مسیح موعود به الصلوۃ والسلام کی اتنی بھی تو عزت نہ تھی جتنی دنیاوی حکومت کے سیکر ٹریٹ کے چپڑاسی کی ہوتی ہے مگر خدا نے کہا اُٹھ اور دنیا کو میر اپیغام پہنچا دے اور اس نے کہا اے میرے رب ! میں حاضر ہوں۔اس نے یہ بھی تو نہیں سوچا کہ یہ کام کیونکر ہو گا؟ اس کا جسم کانپا ہو گا، یقیناً اس کے دل پر رعشہ طاری ہوا ہو گا۔یقیناًوہ حیران ہوا ہو گا، یقیناً۔مگر اس نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ کام کیونکر اور کس طرح ہو گا۔اس کے دل کے تقویٰ اور محبت الہی نے اسے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور اس کے جذبۂ فدائیت نے یہ پوچھنے ہی نہیں دیا کہ اے میرے رب ! یہ کس طرح ہو گا؟ اس نے پہلے کہا ہاں اے میرے رب! میں حاضر ہوں اور پھر اس نے سوچا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں یہ کام کس طرح ہو گا؟ یہی وہ حقیقی اطاعت کا جوش ہے جو لبیک پہلے کہلوا دیتا ہے اور فکر پیچھے پید اہوتا ہے۔صحابہ کی مجلس کا ہی ایک واقعہ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں سچی محبت ہوتی ہے وہاں تعمیل پہلے ہوتی اور فکر بعد میں پیدا ہوتا ہے۔اہل عرب شراب کے سخت عادی تھے۔ایسے عادی کہ بہت کم لوگ ان کی طرح شراب کے عادی ہوتے ہیں۔ان کا تمام لٹریچر ، شعر ، نثر اور خطبے شراب کے ذکر سے بھرے ہوئے ہوتے تھے۔مسلمان بھی چونکہ انہی میں سے آئے تھے اس لئے ان میں بھی وہی عادتیں تھیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ماتحت شروع میں شراب حرام نہیں کی۔مکہ کا سارا زمانہ گزر گیا اور شراب حلال رہی۔مدینہ میں بھی چند سال اسی طرح گزر گئے اور شراب کی حرمت نہ ہوئی۔یہاں تک کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے