خطبات محمود (جلد 21) — Page 21
1940 21 خطبات محمود آپ کی صحبت میں ہی رہنے والی تھیں انہوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے اس کا بہت ہی لطیف جواب دیا۔وہ ہے تو عورتوں والا جواب مگر بہت ہی ایمان افزا ہے۔عورتیں عموماً سامانوں کو نہیں دیکھیں بلکہ ان کا ایمان ایمان العجائز ہوتا ہے۔وہ یہ نہیں دیکھتیں کہ سامان بھی میسر ہیں یا نہیں بلکہ وہ کہتی ہیں کہ کام ہو جائے گا۔کس طرح ہو گا اس کا انہیں کوئی علم نہیں ہو تا۔خدیجہ کا جواب بھی ویسا ہی جواب ہے۔انہوں نے فرمایا لا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ ابد 41 آپ کیوں گھبراتے ہیں۔مجھے خدا کی قسم ہے کہ خدا آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔جب اس نے آپ کے سپر د ایک کام کیا ہے تو وہ خود آپ کی مدد کرے گا اور آپ کی کامیابی کے لئے سامان مہیا کرے گا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ فقرہ تاریخ میں محفوظ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ یہی نہیں کہ تاریخ میں محفوظ ہے بلکہ ان فقروں میں سے ہے جن کو تاریخ بھی مٹا نہیں سکتی۔كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ آبَدًا۔وہی ایمان العجائز ہے ، وہی یقین اور وہی وثوق ہے۔بغیر اس کے کہ وہ عواقب کو دیکھتیں، بغیر اس کے کہ وہ سامانوں پر نظر دوڑا تھیں۔پس اس واقعہ سے رسول کریم صلی ال نیم کی قلبی کیفیت کا کسی قدر اندازہ ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی الہامات نازل ہوئے کہ اٹھو اور دنیا کو میری طرف بلاؤ اور دنیا میں پھر میرے دین کو قائم کرو۔ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہی کیفیت آپ کی بھی ہوئی ہو گی۔آپ بھی حیران ہوئے ہوں گے کہ کہاں میں اور کہاں یہ کام۔قادیان جیسی جگہ میں ، میرے جیسے انسان کو آج خدا یہ کہہ رہا ہے کہ دنیا، مہذب دنیا، طاقتور دنیا، سامانوں والی دنیا مجھ سے دور پڑی ہوئی ہے، اتنی دور کہ دنیا اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتی۔جاؤ اور ان گناہ کے قلعوں کو پاش پاش کر دو جو اسلام کے مقابلہ میں بنائے گئے ہیں۔اور جاؤ اور ان شیطانی حکومتوں کو مٹا دو جو میری حکومت کے مقابلہ میں قائم کی گئی ہیں اور ان تمام بے دینی کے قلعوں اور شیطانی حکومتوں کی جگہ میری حکومت اور دین کی بادشاہت قائم کرو۔اگر کوئی شخص دور بین نگاہ رکھتا ہے ، اگر کوئی شخص حقیقت کو سمجھ سکتا ہے تو میں کہوں گا کہ یہ مطالبہ اس سے بھی زیادہ مشکل تھا جیسے کسی کو چاند دکھایا جائے اور کہا جائے کہ جاؤ اور اس چاند کو جاکر