خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 186

1940 186 خطبات محمود اور انگریزی علاقہ مشرق کی طرف اور جنوب کی طرف ہٹ کر۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ کشتی اُس جانب سے آرہی ہے جس طرف اٹلی کی حکومت ہے اور اُس طرف جا رہی ہے جس طرف انگریزوں کی حکومت ہے۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ یکدم شور اٹھا اور گولہ باری کی آواز آنے لگی اور اتنی کثرت اور شدت سے گولہ باری ہوئی کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ گویا ایک گولے اور دوسرے گولے کے چلنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور یکساں شور ہو رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ گولے متواتر پڑ رہے تھے اور اتنی کثرت سے پڑ رہے تھے کہ یوں معلوم ہو تا تھا ان گولوں سے جو بھرا ہوا ہے۔یہ ایک لمباردیا ہے جو شائع شدہ ہے۔1 اس سے اور بعض اور خوابوں سے جو میں نے دیکھی ہوئی ہیں ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پر ایک خطرناک مصیبت کا وقت آگیا ہے مگر ان خوابوں کا عام ذکر میں مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ البہی علم قبل از وقت ہوتا ہے اور لوگ ان باتوں کو سن کر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہمارے متعلق تخویف سے کام لیا جا رہا ہے اور بلا وجہ ڈرایا اور خوفزدہ کیا جارہا ہے۔اسی لئے جس رویا یا الہام کے متعلق اللہ تعالیٰ خود نہ فرمائے کہ اسے ضرور شائع کر و غیر مامور کے لئے ضروری نہیں ہو تا کہ وہ اس رو یا یا الہام کو بیان کرے۔مامور کا الہام تو ایسا ہو تا ہے کہ اگر اسے حکم دیا جائے کہ اسے شائع نہ کر دیا اجازت دی جائے کہ اگر چاہو تو شائع کر دو اور اگر چاہو تو نہ شائع کرو تو ان دوصورتوں میں وہ اسے شائع نہ کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام کی اشاعت کی ممانعت نہ ہو یا الہام کے ساتھ یہ اجازت نہ ہو کہ اگر چاہو تو اسے شائع کر دو اور اگر چاہو تو نہ شائع کرو تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس الہام کو شائع کرے لیکن غیر مامور کو کسی الہام اور رؤیا کے متعلق اگر خدا یہ حکم دے کہ اسے شائع کر دیا جائے تب تو وہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ اسے شائع کرے ورنہ وہ اس کی اشاعت یا عدم اشاعت کے متعلق کلی اختیار رکھتا ہے۔اس کے ساتھ ہی غیر مامور کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ جب وہ کسی رؤیا یا الہام کو شائع کرے تو یہ بھی دیکھ لے کہ وہ کسی مامور کے الہام یا حکم کے خلاف تو نہیں کیونکہ مامورین کی وحی کے خلاف غیر مامور کا کوئی رؤیا یا الہام درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔بہر حال اگر غیر مامور کو کسی خواب یا الہام کے متعلق یہ حکم نہ دیا جائے کہ اسے ضرور شائع کر دو تو اسے