خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 187

خطبات محمود 187 * 1940 اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسے شائع کرے اور اگر چاہے تو نہ کرے۔موجودہ جنگ کے متعلق گزشتہ نو ماہ میں اللہ تعالیٰ نے متواتر اور کثرت کے ساتھ مجھ رغیب کی خبروں کا اظہار کیا ہے مگر میں مناسب نہیں سمجھتا کہ ان کی عام اشاعت کروں۔گو قریباً قریباً تمام رویا اور کشوف میں بعض دوستوں کو بتا چکا ہوں مگر ان کا عام اظہار میں اس لئے مناسب نہیں سمجھتا کہ اس سے ملک میں بے چینی پیدا ہو گی اور لوگ اسے تخویف اور انذار سمجھ کر یہ خیال کرلیں گے کہ انہیں خواہ مخواہ مرعوب اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی ان کی عام اشاعت سے ممکن ہے حکومت کو بھی شکوہ پیدا ہو اس لئے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ ان کو کھلے طور پر بیان کروں۔جن دوستوں کو میں نے وہ رؤیا و کشوف بتائے ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبل از وقت جبکہ اتحادی ابھی بالکل امن میں تھے اور جبکہ انہیں اپنی طاقتوں پر کامل اطمینان اور بھروسہ تھا مجھے بڑی بڑی تباہیوں ، بڑی بڑی ہلاکتوں اور بڑے بڑے تغیرات کی خبر دی گئی تھی اور ان رؤیا و کشوف اور الہامات کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ ابھی مصائب کا دروازہ اور زیادہ وسیع ہو گا لیکن جس حد تک مصائب میں وسعت ظاہر ہو چکی ہے وہ بھی ایسی ہے کہ ہر عقل و سمجھ رکھنے والے اور خدا تعالیٰ کی خشیت اور اس کا خوف اپنے دل میں محسوس کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے اور دعاؤں میں مشغول ہو جائے۔ہمارے قیاسات اور ہماری عقلیں بہت ہی محدود رنگ رکھتی ہیں۔ایک خیال کرلیتا ہے کہ اس وقت جرمنی کا ترقی کرنا بہتر ہے، دوسرا قیاس کر لیتا ہے کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کی ترقی دنیا کے لئے مفید ہے۔کوئی کسی کی فتح کو مفید سمجھتا ہے اور کوئی کسی کی شکست کو دنیا کے لئے ضروری سمجھتا ہے ؟ مگر سوال یہ ہے کہ خواہ کسی کا جتنا بہتر تصور کیا جائے انگریزوں اور فرانسیسیوں کا یا جرمنی اور اطالیہ کا۔دنیا کی تباہی اور بربادی میں تو کوئی شبہ نہیں۔وہ بہتری جس کی لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں وہ تو شاید سینکڑوں سال میں ظاہر ہو مگر آج کی جنگ میں جس طرح لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، جس طرح تباہی اور بربادی چاروں طرف محیط ہو رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے تو کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ جنگ اسی طرح جاری رہی تو دنیا میں سو میں سے شاید دس پندرہ آدمی ہی زندہ رہیں گے