خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 163

$1940 163 خطبات محمود ہمیشہ شوق رکھتا ہوں اور کچھ اس وجہ سے بھی کہ ہمارا فوجی خاندان ہے مجھے ان باتوں سے دلچسپی ہے کیونکہ فوجی خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ روح میرے اندر پائی جاتی ہے جو فوجیوں کے اندر ہوا کرتی ہے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ بُری خبروں کو لے کر دوڑنا، انہیں لوگوں میں پھیلانا اور اُن پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا بہت بڑے گناہ کی بات ہے اور انہی باتوں کے نتیجہ میں ملک کا امن برباد ہوا کرتا ہے۔اگر کسی وقت ملک میں فساد ہو گیا اور لوگوں نے جتھے بنا بنا کر ایک دوسرے پر حملہ کرنا اور دوسروں کو لوٹنا شروع کر دیا تو اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے لوگوں میں اس قسم کی بری خبریں پھیلائیں۔اور اگر کسی جگہ ایک احمدی بھی ان فسادات کے نتیجہ میں مارا گیا تو اس کا تمام گناہ ان گندی فطرت کے احمدیوں پر عائد ہو گا جو اس قسم کی خبروں پر خوشی مناتے اور لوگوں کو ہنس ہنس کر سناتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت گنہگار اور مجرم ہوں گے اور وہ غیر احمدیوں سے زیادہ قصور وار ہوں گے کیونکہ ان خبیث الفطرت لوگوں کو سمجھایا بھی گیا مگر وہ پھر بھی نہ سمجھے۔ان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور دعاؤں میں لگے رہیں۔ایسے اوقات میں ہنسی اور مذاق اور مخول اور عدم سنجیدگی سے کام لینا سخت کمپینگی کی بات ہوتی ہے۔اس وقت دنیا کی عزت کا سوال ہے۔اس وقت دنیا کے امن چین راحت اور زندگی کا سوال ہے۔پس کیسا ہی بے شرم اور بے حیاوہ شخص ہے جو گھر میں بیٹھ کر خبریں سنتا اور کبھی اس پر تمسخر اڑا دیتا ہے اور کبھی اس پر اور یہ نہیں دیکھتا کہ اس وقت پندرہ میں لاکھ آدمی چاہے وہ جرمنی کے ہوں کہ آخر وہ بھی انسان ہیں، چاہے وہ برطانیہ کے ہوں کہ وہ بھی انسان ہیں، چاہے وہ فرانس کے ہیں کہ وہ بھی انسان ہیں، چاہے وہ پولش ہوں کہ وہ بھی انسان ہیں اور چاہے وہ کسی اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں کہ وہ بھی انسان ہیں۔بہر حال پندرہ بیس لاکھ انسان رات اور دن بغیر دم لئے لڑرہے اور ٹینکوں اور موٹر گاڑیوں کے نیچے کٹتے چلے جارہے ہیں۔تمہاری مائیں اور بہنیں اگر تم دس میل کے سفر پر بھی جاتے ہو تو آنسوؤں سے تمہیں رخصت کرتی ہیں مگر تمہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ لاکھوں گھر اس وقت ایسے ہیں جن میں مائیں اور بہنیں اور بیٹیاں اور بیویاں اس انتظار میں بیٹھی رہتی ہیں کہ کب تار