خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 162

1940 162 خطبات محمود سمجھدار واقع ہوئے ہیں۔حالانکہ اگر انہیں فوج میں لگایا جائے تو وہ سپاہی کا کام بھی نہ کر سکیں۔غرض جنوبی فوجوں کو بالمقابل حملہ سے باز رکھنے کی حکمت جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہی ہے کہ اتحادی اپنے مورچوں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔اور اگر وہ تمام فوج کو اس لڑائی میں دھکیل دیتے تو انہیں جنوب میں نئے مورچے بنانے اور مضبوط کرنے کی فرصت نہیں مل سکتی تھی اور چونکہ جرمن پہلے حملہ میں کامیاب ہو چکا تھا اتحادیوں کی فوج کو کسی جگہ ٹک کر لڑنے کا موقع نہیں مل سکتا تھا۔پس انہوں نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے فوج کے ایک بڑے حصہ کو تو جنوب میں جمع کرنے اور مضبوط مورچوں میں بٹھانے کو جھوٹی بڑائی پر مقدم سمجھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ گوبظاہر فرانسیسی کمان پر یہ اعتراض ہے کہ اس نے شمالی فوج کو اس کے حال پر چھوڑ کر جرمن فوج کے لئے زیادہ خطرہ پیدا کر دیا کیونکہ بوجہ بالکل گھر جانے کے اس فوج نے جرمن فوج کا نہایت سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا بہت نقصان کر دیا۔ایسا حملہ وہی سپاہی کر سکتے ہیں جو موت کو اپنے سامنے کھڑا دیکھتے ہیں۔اس کے ساتھ فرانسیسی کمان نے جنوبی فوج کے لئے سانس لینے کا وقت نکال لیا اور انہیں مورچے مضبوط کرنے کا موقع دے دیا۔شمالی فوج کو جس بے بسی میں چھوڑا گیا اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس فوج کا ہر سپاہی جر من حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے کیونکہ ایک جرمن کے سامنے صرف فتح کا خیال ہے مگر ایک اتحادی کے سامنے صرف فتح کا ہی سوال نہیں بلکہ اپنی جان کا بھی سوال ہے، بلکہ اس کی عزت ، اس کی قوم اور اس کے ملک کے خطرات بھی اس کے سامنے ہیں مگر اس کے علاوہ ہر سپاہی سمجھتا ہے کہ اگر ایک دفعہ بھی اس کی آنکھ جھپک گئی تو وہ زندہ نہیں رہے گا۔اس وجہ سے ایک ایک اتحادی چار چار پانچ پانچ جر من سپاہیوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور جنوبی فوجوں پر جرمن حملے کا جو زور تھا وہ رک گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی فرانسیسی اور انگریز نے مورچے بنارہے ہیں اور انہیں مضبوط سے مضبوط تر بناتے جارہے ہیں۔غرض ان باتوں میں دخل دینا جن سے انسان کلیپ ناواقف ہو سخت احمقانہ فعل ہوا کرتا ہے۔یوں تو جنگی فنون کے لحاظ سے میں بھی ویسا ہی ناواقف ہوں جیسے تم مگر خدا تعالیٰ نے مجھے ان علوم کو سمجھنے کا ملکہ دیا ہے اور گو میں سپاہی نہیں مگر سپاہیوں کے فوجی علم کے مطالعہ کا