خطبات محمود (جلد 21) — Page 164
1940 164 خطبات محمود آتا ہے جس میں یہ لکھا ہو گا کہ آج تمہارا بیٹا مارا گیا، آج تمہارا خاوند مارا گیا، آج تمہارا باپ یا تمہارا بھائی مارا گیا۔کیا یہ واقعات ہنسی مذاق کی اجازت دے سکتے ہیں ؟ اور کیا یہ خبریں ہنسی اور مذاق سے سننے کے قابل ہیں ؟ یا کیا ان خبروں کو سننے کے بعد تمہارے لئے جائز ہو سکتا ہے کہ تم گپیں ہانکنے لگ جاؤ اور کہو کہ فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے وہ جس شخص کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی ایمان ہو، جس شخص کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی شرافت ہو، جس شخص کے دل میں ایک ذرہ بھر بھی انسانیت کا جذبہ ہو وہ کبھی ان باتوں کو ہنسی مذاق میں نہیں اڑ سکتا۔ہاں اگر کوئی کمینہ فطرت اور خبیث الطبع انسان ہو تو اس کا ایسے موقع پر بھی دل نہیں کا نپتا۔آخر جیسے تمہاری ماؤں اور بہنوں اور بیٹیوں کے دل ہیں ویسے ہی اُن کی ماؤں اور بہنوں اور بیٹیوں کے دل ہیں اور ایک ایک قدم پر ان کے بیٹے ، اُن کے بھائی اور ان کے باپ اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں حتی کہ ایک سیکنڈ بھی ایسا نہیں گزرتا جس سیکنڈ میں پندرہ بیس آدمی وہاں نہیں مرتے۔جتنی دیر مجھے اس وقت خطبہ پڑھتے ہوئی ہے اتنی دیر میں وہاں ہر ایک سپاہی پچاس ساٹھ آدمیوں کو اپنے سامنے مرتے ہوئے دیکھ لیتا ہے کچھ اپنی فوج میں سے اور کچھ دشمنوں کی فوج میں سے اور پھر موت بھی کیسی کہ جس پر کوئی آنسو بہانے والا نہیں۔بھائی کے سامنے بھائی مرتا ہے مگر اسے اتنی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی لاش کو اٹھائے بلکہ ادھر مرنے والے مرتے ہیں اور ادھر فوج کو حکم ملتا ہے کہ ایک قدم پیچھے ہٹو۔پھر اور آدمی مرتے ہیں تو پھر حکم ملتا ہے کہ ایک قدم اور پیچھے ہٹو۔اسی طرح وہ لاشوں کے انبار کو چھوڑتے ہوئے پیچھے کو ہٹتے چلے جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے دشمن کے ٹینک آتے ہیں اور وہ ان مردوں کی ہڈیوں کو مسل دیتے ہیں، ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے عزیزوں کا بھیجا نکل رہا ہوتا ہے، پیٹ پھٹ رہا ہو تا ہے ، ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوتی ہیں اور وہ بے گور و کفن وہاں پڑے ہوتے ہیں۔مگر ان میں کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ ایک آنسو بھی بہائے یا ایک قدم بھی رک جائے۔کیا یہ باتیں اس قسم کی ہیں کہ انسان ان کا ذکر سن کر ہنسی مذاق میں مشغول ہو جائے یا اس قسم کی ہیں کہ انسان کا دل ان کا ذکر سن کر خدا تعالیٰ کی خشیت اور اس کے خوف سے بھر جائے؟ اگر ایسے موقع پر بھی کسی انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسے موقع پر بھی