خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 457

$1940 456 خطبات محمود پھر غالب آجائیں گے اور ایرانی ان کے مقابلہ میں شکست کھا جائیں گے۔اور یہ خبر تم کو ایسے وقت میں پہنچے گی جب تم بھی ان دشمنوں کو ایک شکست دے چکے ہو گے۔چنانچہ رومیوں کی فتح کی خبر مسلمانوں کو بدر کے موقع پر پہنچی۔جب کفار کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست فاش کھا چکا تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب یہ وحی نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ ابی بن خلف جو مکہ کا رئیس تھا اس کے پاس پہنچے اور فرمانے لگے کہ کچھ تم نے سنا۔ہمارے آقا کو الہام ہوا ہے کہ بضع سنين میں رومی ایرانیوں پر پھر غالب آجائیں گے۔اس نے کہا اگر یہ بات ہے تو آؤ اور کوئی شرط باندھ لو۔حضرت ابو بکر نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ دس دس اونٹوں کی شرط ہو گئی۔بضع سنین کے معنے تین سے دس سال تک کے ہوتے ہیں یعنی تین سال سے لے کر نویں سال کے اختتام تک۔مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس کا خیال نہ رہا اور انہوں نے تین سال کی مدت مقرر کر دی اور کہا کہ اگر تین سال میں ایرانیوں نے رومیوں کے ہاتھوں شکست نہ کھائی تو میں تمہیں دس اونٹ دوں گا اور اگر وہ شکست کھا گئے تو تمہیں دس اونٹ الله سة دینے ضروری ہوں گے۔اس کے بعد وہ رسول کریم صلی ال نیم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ میں تو آپ کی وحی پر شرائط باندھ آیا ہوں اور کہہ آیا ہوں کہ اگر ایرانیوں کو اب کی دفعہ شکست نہ ہوئی تو میں دس اونٹ دوں گا۔رسول کریم صلی ال نیلم نے فرمایا کہ مدت کیا مقرر کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ تین سال۔آپ نے فرما یا بضع سنين تو تین سے نو سال تک ہوتے ہیں۔یہ آپ نے غلطی کی جو تین سال کی حد مقرر کر دی۔پھر آپ نے فرمایا کہ اچھا اب اس غلطی کی تلافی اس طرح کرو کہ اُبی بن خلف کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم شرط اور زمانہ دونوں بڑھا دیتے ہیں۔شرط سو سو اونٹ رکھ لو اور مدت نو سال کے اختتام تک بڑھا دو۔چنانچہ وہ پھر ابی بن خلف کے پاس گئے اور یہی بات اس کے سامنے پیش کر دی۔اسے چونکہ یقین تھا کہ ایرانیوں کی طاقت بہت بڑی ہے اور ناممکن ہے کہ رومی انہیں شکست دے سکیں اس لئے اس نے فوراًخوشی سے اس بات کو قبول کر لیا اور کہا کہ بے شک زمانہ نو سال تک بڑھاؤ اور شرط سو سو اونٹوں کی رکھ لو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے حالات میں تبدیلی پیدا کرنی شروع کر دی اور نو سال کے اندر اندر ان میں ایک باہمت بادشاہ پیدا ہوا اور اس نے اپنے ملک