خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 456

$1940 455 خطبات محمود ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے بقائے ہیں۔میر اخیال ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے بقائے تھیں ہزار کے قریب ہوں گے اور یہ وہ بقائے ہیں جن کی ادائیگی کا دوستوں نے وعدہ کیا ہوا ہے۔پس اپنے وعدوں کو پورا کریں۔اور بقائیوں کو جلد سے جلد صاف کریں۔وعدہ بڑی قیمتی چیز ہوتا ہے اور پھر مومن کا وعدہ تو اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص مومن کہلا کر بھی اپنا وعدہ پورا نہ کرے تو اس کا ایمان اسے کیا فائدہ دے سکتا ہے۔وعدہ تو ایسی چیز ہے کہ بسا اوقات کافر بھی اسے پورا کرنے کا فکر رکھتا ہے اور جبکہ کافر بھی وعدہ کو پورا کیا کرتا ہے تو مومن کو خیال رکھنا چاہیئے کہ اس کا قدم کم سے کم کافر سے نیچے تو نہ پڑے۔عرب میں وعدوں کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔اس زمانہ میں تو مسلمان کہلانے والے چاہتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو دوسروں کا نقصان ہو۔انہیں نہ اپنے وعدوں کا خیال ہوتا ہے نہ لین دین کا احساس ہوتا ہے۔مگر اہل عرب میں وعدوں کو پورا کرنے کا اتنا احساس تھا کہ باوجو د کفر کے وہ اپنے وعدوں کو پورا کر کے دکھا دیتے تھے۔چنانچہ مکہ میں ایک دفعہ خبر پہنچی کہ ایرانی فوجوں سے رومی فوج شکست کھا گئی ہے۔مکہ والے چونکہ مشرک تھے اور ایران والے بھی مشرک تھے۔اس لئے مکہ کے بت پرست اس سے بہت خوش ہوئے۔مشرک تو عیسائی بھی تھے مگر وہ چونکہ مسلم اہل کتاب تھے اس لئے مکہ والوں نے شور مچا دیا کہ یہ محمد (صلی ) جو عیسی کو مانتا ہے اس کا تعلق عیسائیوں سے ہے اور ہمارا تعلق ایرانیوں سے ہے۔اس جنگ میں چونکہ ایرانیوں کو فتح ہوئی ہے اور رومی شکست کھا گئے ہیں اس لئے یہ ہمارے لئے ایک نیک فال ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بھی فتح پائیں گے اور مسلمان ہمارے مقابلہ میں شکست کھا جائیں گے۔غرض مکہ میں ایک شور برپا ہو گیا کہ چونکہ ایرانیوں نے رومیوں کو شکست دے دی ہے اس لئے اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو شکست دے دی۔جب کوئی رو چلتی ہے تو چلتی چلی جاتی ہے اور طبائع خود بخود اس سے متاثر ہوتی جاتی ہیں۔یہ رو بھی ایسی چلی کہ ہر جگہ اس کا تذکرہ رہنے لگا۔مسلمانوں نے اس پر بخشیں کرنی شروع کر دیں۔کوئی کہتا کہ فال کوئی چیز ہی نہیں ہوتی۔کوئی کہتا کہ یہ محض وہم اور خیال ہے اور کوئی یہ کہتا کہ فال لینے کا یہ طریق غلط ہے۔آخر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی ا لم پر وحی نازل کی کہ رومیوں کو گواب شکست ہو چکی ہے مگر بضع سنين 7 میں وہ