خطبات محمود (جلد 21) — Page 8
1940 8 خطبات محمود عزت پر حملہ نہ کرے، اس کے مال پر حملہ نہ کرے، اس کی جان پر حملہ نہ کرے۔غیر مسلموں کا اس لئے ذکر نہیں کیا گیا کہ جب مسلمانوں کو یہ عادت ہو جائے گی اور اپنے بھائیوں کے خلاف نہ ان کا ہاتھ اٹھے گا، نہ ان کی آنکھ اٹھے گی اور نہ ان کی زبان حرکت کرے گی تو وہ غیر اقوام کے لوگوں کو بھی دکھ دینے سے خود بخود اجتناب کریں گے اور چونکہ وہ دوسری آیات اور احادیث سے یہ جانتے ہیں کہ اسلام نے غیر مسلموں پر بھی حملہ کرنانا پسندیدہ امر قرار دیا ہے اور ان کو حملہ نہ کرنے کی پختہ عادت ہو چکی ہو گی وہ کسی غیر مسلم کو بھی نہیں پیٹیں گے، وہ کسی غیر مسلم کا بھی مال نہیں کھائیں گے اور وہ کسی غیر مسلم کی عزت پر بھی حملہ نہیں کریں گے ، جس طرح مسلمانوں کی جان، مال اور آبر و پر وہ حملہ نہیں کریں گے۔دوسری بات جلسہ سالانہ پر میں نے یہ بیان کی تھی کہ گزشتہ سال میں نے دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ ہر احمدی کم سے کم ایک نیا احمدی سال میں ضرور بنائے مگر میری یہ نصیحت اتنی کامیاب نہیں ہوئی جتنی کامیابی کی توقع تھی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سال پہلے کی نسبت بیعت زیادہ ہوئی ہے مگر یہ زیادتی دس پندرہ فیصدی ہے اور دس پندرہ فیصدی کی زیادتی کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔اس لئے میں آج کے خطبہ میں پھر قادیان کے دوستوں کو اور باہر کے دوستوں کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس سال پھر ہر احمدی کم سے کم ایک نیا احمدی بنانے کی کوشش کرے اور چونکہ اگر انسان نے وعدہ کیا ہو ا ہو تو اسے اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے اس لئے ہر احمدی تحریر امجھے اطلاع دے کہ وہ اس سال کتنے نئے احمدی بنانے کا وعدہ کرتا ہے تا کہ اول اسے اپنے وعدہ کو پورا کرنے کا خیال رہے اور اگر بفرض محال وہ اپنے وعدہ کو پورا نہ کر سکے تو اس کے نفس میں شرمندگی پید اہو اور وہ آئندہ اپنی گزشتہ کمی کو زیادہ جد وجہد سے پورا کرنے کی کوشش کرے۔بہر حال یہ ایک مفید چیز ہو گی سلسلہ کی ترقی کے لحاظ سے بھی کیونکہ جب وہ تحریری طور پر وعدہ کریں گے تو وہ توجہ سے اس وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔اور ان کے اپنے نفس کے لئے بھی کیونکہ اگر وہ وعدہ پورا نہ کر سکے تو ان کے نفس میں غیرت پیدا ہو گی اور آئندہ وہ اس کو تاہی کا ازالہ کرنے کے لئے زیادہ جد وجہد سے کام لیں گے۔غرض وعدہ کرنا ان کے لئے بھی مفید ہے اور سلسلہ کے لئے بھی مفید ہے۔