خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 9

1940 9 خطبات محمود پس جو دوست نئے احمدی بنانے کی نیت کریں وہ مجھے بھی اپنی نیت سے آگاہ کر دیں اور بتا دیں کہ اس سال کتنے نئے احمدی بنانے کی وہ کوشش کریں گے ؟ اگر وہ اپنے لئے کوئی خاص علاقہ یا تبلیغ کے لئے کسی خاص قوم کو مخصوص کرنا چاہتے ہوں تو اس کی بھی مجھے اطلاع دے دیں کہ فلاں علاقہ یا فلاں قوم میں چونکہ احمدیت نہیں اس لئے ہم اس علاقہ یا اس قوم کی ہدایت کے لئے تبلیغی جد وجہد کریں گے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت اگر فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کی طرف پورے طور پر توجہ کرے تو جماعت کی ساری مشکلات چند دنوں میں دور ہو سکتی ہیں بلکہ جماعت کیا ساری دنیا کی مشکلات دور ہو سکتی ہیں کیونکہ احمدیت ہی ہے جو دنیا کی مشکلات کو دور کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔اگر احمدیت آج دنیا میں پھیلی ہوئی ہوتی تو جرمنی اور برطانیہ اور روس اور فن لینڈ کے جھگڑے ہی کیوں ہوتے؟ یہ سب جھگڑے اِسی لئے ہیں کہ احمدیت کی تعلیم ابھی تک دنیا میں نہیں پھیلی۔پس آج دنیا کے تمام جھگڑے انتظار کر رہے ہیں احمدیت کے انتشار اور اس کی اشاعت کا ، اور دنیا کے تمام جھگڑے انتظار کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم ہونے کا اور اللہ تعالیٰ کی حکومت دنیا میں اُس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک احمدیت پھیل نہیں جاتی۔پس اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور وفاداری بھی یہی چاہتی ہے کہ احمدیت کو ہم دنیا میں جلد سے جلد پھیلائیں اور بنی نوع انسان کی محبت اور ان کی خیر خواہی بھی یہی چاہتی ہے کہ احمدیت کو ہم دنیا میں جلد سے جلد پھیلائیں تاکہ جھگڑے اور فساد دور ہوں اور دنیا میں امن قائم ہو جائے۔میں یہ نہیں کہتا کہ احمدیت کی اشاعت کے بعد کامل امن ہو جائے گا اور لڑائی جھگڑے گلية مفقود ہو جائیں گے۔انفرادی جھگڑے رہتے ہی ہیں جیسے احمدیوں میں بھی بعض دفعہ جھگڑے ہو جاتے ہیں مگر وہ ایک حد کے اندر محدود رہتے ہیں اور ان لڑائیوں اور جھگڑوں کے دور کرنے کا ذریعہ وہی حدیث ہے جو میں نے بتائی ہے۔اگر اس حدیث کو اپنا دستور العمل بنالیا جائے تو اس قسم کے جھگڑے بھی پیدا نہیں ہو سکتے لیکن بہر حال احمدیوں کے جھگڑے محدود ہیں، ان کے اثرات محدود ہیں اور ان جھگڑوں کو روکنے کے سامان موجود ہیں۔اگر بعض احمدیوں میں لڑائی ہو جائے تو ایک نظام موجود ہے جو ان کے فتنہ کو روک دیتا ہے،