خطبات محمود (جلد 21) — Page 77
$1940 77 خطبات محمود غیر معمولی تیزی پیدا ہو جائے گی۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ:۔تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے کہ اے رسول ! بے شک میں نے ایسا دعویٰ کیا ہے جو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا اور بے شک وہ حیرت سے مجھے کہتے ہیں کہ ایک امتی ایسا اعلیٰ مقام کیونکر حاصل کر سکتا ہے ؟ مگر اے محمد رسول اللہ ! یہ تعجب کی کوئی بات نہیں تو جب تمام نبیوں سے آگے رہنے والا رسول ہے تو تیرے پیچھے چلنے والا سپاہی بھی تو دوسروں سے آگے ہی رہے گا۔تو یہ امید کو کچلنے اور امنگ کو مٹا دینے والی قوم ہے۔آج بے شک وہ شکست خوردہ مسلمانوں سے اپنی تعریف کروالیں، آج بے شک وہ مایوس مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کر لیں لیکن جب ترقی کے میدان میں بڑھنے والی اور اپنے دلوں میں امنگیں اور ولولے رکھنے والی قو میں آئیں گی تو وہ ان لوگوں کو سخت ملامت کریں گی اور کہیں گی کہ انہوں نے لوگوں کی ترقی کے راستے روک دیئے۔حالانکہ رسول کریم صلی ال ل ل لم لوگوں کو ترقی دینے کے لئے آئے تھے نہ کہ ان کی ترقی کو روکنے کے لئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درجہ انہوں نے کس قدر گرا دیا۔خلافت کے زمانہ کے شروع میں جب آپس میں بحثا بحثی ہوئی تو ان کے ایک مضمون نگار نے لکھا کہ بھلا یہ بھی کوئی جھگڑے کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا درجہ ہے ؟ آؤ ہم بتائیں کہ آپ کا کیا درجہ ہے۔بات یہ ہے کہ خلفائے اربعہ کے بعد سب سے افضل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔گویا ابو بکر بھی بڑے، عمر بھی بڑے، عثمان بھی بڑے، علی بھی بڑے۔ہاں حضرت علی کے بعد آپ کا مقام ہے۔پھر اس نے لکھا جیسے کسی نے کہا ہے: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر اسی طرح ہم آپ کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ : بعد از علی بزرگ توئی قصہ مختصر رض کہ قصہ مختصر یہ ہے کہ علی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درجہ ہے لیکن اگر یہ کسی ایسے ملک میں چلے جائیں جس پر سید عبد القادر صاحب جیلانی کے ماننے والوں کا