خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 73

1940ء 73 خطبات محمود ان کے بعض آدمی بھی وقتاً فوقتاً قادیان میں آتے اور بعض منافقین سے ملتے رہتے ہیں اور وہ اپنے دل میں پھر یہ خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ اس رنگ میں وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر میں یہ جانتا ہوں کہ وہ یقینا ناکام رہیں گے ۔ پس چاہے وہ کتنا زور لگائیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو نا کام کرے گا اور یہ ہو کیونکر سکتا ہے کہ یہ لوگ کامیاب ہو جائیں جبکہ ان لوگوں کے کامیاب ہونے کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے جس مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کھڑا کیا ہے اس میں آپ کی کھلی کھلی ہتک ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جتنی خصوصیات اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے غیر مبائعین ان سب کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ غیروں کے پیچھے نماز پڑھنا وہ جائز قرار دیتے ہیں گو پڑھتے خود بھی نہیں کیونکہ ان کے دل میں چور ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ نے ہم سے پوچھا تو ہم کہہ دیں گے کہ ہم نے کبھی غیروں کے پیچھے نماز نہیں پڑھی لیکن دوسروں کے ایمان پر ضرور ڈاکہ ڈالیں گے اور انہیں کہیں گے کہ غیروں کے پیچھے نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح غیر احمدی کو لڑکیاں دینے کا معاملہ ہے۔ گو ان میں جتنے بڑے آدمی ہیں انہوں نے آج تک کسی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہیں دی مگر یوں کہتے رہتے ہیں کہ غیر احمدیوں کو لڑکیاں دینا جائز ہے حالانکہ اگر جائز ہے تو دیتے کیوں نہیں؟ وہ اسی لئے نہیں دیتے کہ جانتے ہیں ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت میں بیٹھنے والے لوگ زندہ ہیں اور اگر ہم نے غیر احمدیوں کو اپنی لڑکیاں دینی شروع کر دیں تو ایک طبقہ بغاوت اختیار کرے گا۔ بہر حال وہ کرتے وہی ہیں جو ہم کرتے ہیں مگر زبان سے یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ غیر احمدیوں کو لڑکیاں دینا جائز ہے۔ مگر یہ عجیب جائز ہے کہ ہے تو جائز مگر جماعت کے اکابر میں سے کوئی بھی اس پر عمل نہیں کرتا۔ ہم نے سَهْلُ الْمُمْتَنِع تو سنا ہوا تھا مگر یہ حَلَالُ الْمُمْتَنِعِ اب سنا کہ ایک بات حلال بھی ہے مگر اسے عمل میں بھی نہیں لایا جاتا۔ غرض ان معاملات میں انہوں نے اپنی طرف سے ایسی پیچ لگادی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو پرانے صحابی ہیں وہ بھی اعتراض نہ کر سکیں اور جو غیر احمدی ہیں وہ بھی خوش ہو جائیں۔ لیکن یہ