خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 72

خطبات محمود 72 $1940 شکل میں رہیں یا شیعوں کی شکل میں یا خارجیوں اور شیعوں اور پیغامیوں اور مصریوں سب کی صورت میں۔بہر حال کسی نہ کسی رنگ میں رہیں گے اور یہ بات یقینا فکر والی ہے۔کیونکہ اگر دشمن نے کسی نہ کسی رنگ میں رہنا ہے اور اگر مخالف نے کسی نہ کسی رنگ میں ہمیشہ ہمارے رستہ میں روڑے اٹکاتے رہنا ہے تو ہمارے لئے بھی ہمیشہ ہی اس کے مقابلہ کا انتظام کرتے رہنا ضروری ہو گا کیونکہ انسانی جسم میں اگر کوئی مرض رہے تو بہر حال اس کا علاج کرناضروری ہوتا ہے۔ایک شخص کو نزلہ ہو تا ہے اور چند دنوں کے بعد وہ اچھا ہو جاتا ہے تو وہ اتنے ہی دن دوائی کھاتا ہے جتنے دن بیمار رہتا ہے۔ایک اور شخص کو بخار ہوتا ہے اور وہ اچھا ہو جاتا ہے تو وہ بھی صرف اتنے ہی دن دوائی کھاتا ہے جتنے دن بیمار رہتا ہے۔لیکن اگر کوئی مرض ایسا ہو جو خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو مگر ہمیشہ ساتھ رہے تو اس کے متعلق انسان ہمیشہ دوائی استعمال کرتارہتا ہے تا کہ مرض دبا رہے اور وہ جسم پر غلبہ نہ پالے۔پس صرف اس بات پر خوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ ہم غالب رہیں گے کیونکہ اگر کوئی فتنہ ایسا ہے جس نے ہمیشہ دین کے راستہ میں روک بننا ہے تو چاہے وہ صرف ایک شخص کو ہی ہدایت سے روکنے کا موجب بن سکے بہر حال وہ فتنہ ایسا نہیں کہ ہم اس کی طرف سے غافل ہو سکیں۔رسول کریم صلی الہی میں نے ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے علی تیرے ہاتھ سے ایک شخص کا ہدایت پا جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تجھے ایک بہت بڑی وادی جانوروں سے بھری ہوئی مل جائے۔1 اور جب ایک شخص کا ہدایت پا جانا اس قدر بہتر ہے تو صاف ظاہر ہے کہ ایک شخص کا کسی فتنہ سے گمراہ ہونا بھی اتنی ہی خطر ناک بات ہے۔پس یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ تھوڑے ہیں اور ہم زیادہ بلکہ دیکھنا یہ چاہیئے کہ اگر ان کے ذریعہ ایک شخص بھی گمراہ ہو تا ہے تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے کیونکہ اگر ہم بہت ہو کر بھی کسی کو ان کی طرف جانے دیتے ہیں تو یہ امر ہماری بے توجہی پر دلالت کرتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ مصری فتنہ سے طاقت پاکر گزشتہ ایام سے غیر مبائعین پھر سر اٹھا رہے ہیں اور وہ اپنے دل میں یہ امیدیں قائم کر رہے ہیں کہ وہ جماعت میں پھر کوئی فتنہ پیدا کر سکیں گے۔چنانچہ انہوں نے ایک علیحدہ اخبار “ینگ اسلام ” اسی غرض سے جاری کیا ہوا ہے اور