خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 48

خطبات محمود 48 * 1940 یہاں یہ بڑی سخت دقت ہے ہمیں چھپ چھپ کر جانا پڑتا ہے۔انگلستان میں اس حال دے کے بجائے موسم کا حال پوچھنے کا رواج ہے۔تم اگر گھر سے نکلو اور راستہ میں تمہیں ایک ایسا شخص ملے جسے دردوں کا عارضہ ہے یا گنٹھیا کی شکایت ہے اور سردی کی وجہ سے اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کہے گا کیسا بر اموسم ہے اور تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ چاہے خود اُس وقت لطف ہی آرہا ہو مگر تم کہو یہی کہ بہت ہی براموسم ہے۔آگے گئے تو ایک اور شخص ملا جو ہٹا کٹا تندرست مشٹنڈا ہے۔اس پر سر دی بُرا اثر نہیں کرتی اور وہ کہتا ہے کہ اوہ ! کیسا نفیس موسم ہے۔اُس وقت تمہارا فرض ہے کہ کہو کہ ہاں بہت ہی اچھا موسم ہے۔آگے جاکر ایک نے کہا کہ آج بارش ضرور ہو گی تو تم کو کہنا پڑے گاہاں ضرور ہو گی۔لیکن اور آگے جاکر کوئی اور ملا اور اس نے کہا کہ آج تو بارش کے کوئی آثار نہیں۔تو تم چند قدم پیچھے جو یہ کہہ چکے ہو کہ ضرور بارش ہو گی اب یہ کہنے پر مجبور ہو کہ نہیں ہر گز نہیں ہو گی۔آج تو بارش کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔تو یہ بات دراصل تہذیب سمجھی جاتی ہے کہ جس کے ساتھ بات کی جائے اس کا دل خوش کرنے کا اتنا خیال رکھا جائے کہ خواہ اس کے لئے صداقت چھوڑنی پڑے اس میں تامل نہ ہو۔یہاں ہندوستان میں بھی اب یہ بات بہت پیدا ہو رہی ہے۔بعض احمدی کسی تعلیم یافتہ آدمی کو کئی کئی سال تبلیغ کرتے رہتے ہیں اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب آچکا ہے لیکن جب کوئی موقع پیدا ہو وہ شدید دشمن ثابت ہوتا ہے۔بات یہ ہے کہ یورپین تہذیب کے مطابق وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ جب اسے کہا جائے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں تو وہ بھی یہی بات کہے اور جب کہا جائے کہ حضرت مرزا صاحب نے فلاں فلاں معجزات دکھائے، وہ خدا تعالیٰ کے محبوب اور مُحب تھے تو تہذیب کے خلاف سمجھتا ہے کہ اس بات کی تردید کی جائے لیکن جب مقابلہ کا وقت آتا ہے تو اس کا اندرونہ ظاہر ہو جاتا ہے۔لیکن یورپ میں جہاں یہ نقص ہے وہاں بعض خوبیاں بھی ہیں۔وہاں بعض اصول مقرر ہیں اور وہ لوگ اس طرح ان کی پابندی کرتے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔بسا اوقات وہ اصول متضاد بھی ہوتے ہیں مثلاً جہاں یہ دستور ہے کہ موسم کے معاملہ میں کوئی جو کچھ کہے اس کی تائید کر دی جائے وہاں یہ بات بھی ہے کہ عام حالات میں وہ لوگ سچ بولنے کے عادی ہیں۔